گال، 15 اگست (یواین آئی) ہندوستان نے اپنے تاریخی 600 ویں ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن دیودت پڈیکل کی شاندار ناٹ آؤٹ سنچری کی بدولت دو وکٹ پر 288 رنز بناکر اپنی پوزیشن مضبوط کرلی۔ خراب روشنی کے باعث پہلے دن کا کھیل 73 اوورز کے بعد ختم ہوا۔
بارش کے سبب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا کھیل متاثر ہوا، تاہم ہندوستان نے دن بھر مجموعی طور پر 101، 96 اور 91 رنز کے تین سیشن کھیلے۔ پڈیکل 178 گیندوں پر 131 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے، جس میں 12 چوکے اور ایک چھکا شامل ہے۔ رشبھ پنت 36 گیندوں پر 27 رنز بناکر ان کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔
ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ کے ایل راہل اور یشسوی جیسوال نے اننگز کی شروعات کی اور پہلے وکٹ کے لیے 47 رنز جوڑے، لیکن باہمی غلط فہمی کے باعث جیسوال 32 رنز پر رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے پانچ چوکے لگائے۔
اس کے بعد پڈیکل اور راہل نے ذمہ دارانہ بلے بازی کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا اور دونوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔ چائے کے وقفے تک ہندوستان نے ایک وکٹ پر 197 رنز بنالیے تھے۔ تاہم راہل کو کریمپ کی شکایت ہوئی اور وہ 77 رنز پر ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے۔ انہوں نے 162 گیندوں پر نو چوکے اور ایک چھکا لگایا۔
راہل کی جگہ کپتان شبھمن گل میدان میں آئے اور پڈیکل کو ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کرتے دیکھا، لیکن وہ 16 رنز پر پربھات جے سوریا کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے۔ یہ سری لنکا کی جانب سے پہلے دن کا پہلا اور واحد گیند سے حاصل کیا گیا وکٹ تھا۔
اس کے بعد پڈیکل اور پنت نے ہندوستانی اننگز کو آگے بڑھایا۔ دونوں کے درمیان ناٹ آؤٹ 52 رنز کی شراکت قائم ہوئی اور دن کا کھیل ختم ہونے تک ہندوستان نے دو وکٹ پر 288 رنز بنالیے تھے۔
سری لنکا کو پہلے دن اسپن گیندبازوں کے لیے پچ سے کچھ مدد ضرور ملی، لیکن ٹیم مسلسل دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہی۔ دوسرے دن ہندوستان اپنی مضبوط پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا۔
ادھر کچھ ٹیسٹ سنچریاں صرف اسکور بورڈ پر رنز کا اضافہ کرتی ہیں، جبکہ کچھ تاریخ کے صفحات میں جگہ بناتی ہیں۔ سری لنکا کے خلاف ہفتہ کو دیودت پڈیکل کی سنچری نے دونوں کام انجام دیے۔
بائیں ہاتھ کے ہندوستانی بلے باز پڈیکل 21ویں صدی میں نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے ٹیسٹ سنچری بنانے والے صرف دوسرے ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز بن گئے ہیں۔ ان سے قبل سورو گنگولی نے 2002 میں دہلی میں زمبابوے کے خلاف نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے 136 رنز بنائے تھے۔
ہندوستانی ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر تین کی پوزیشن ہمیشہ اہم رہی ہے۔ اس نمبر پر نئی گیند کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط تکنیک درکار ہوتی ہے، جبکہ مڈل آرڈر کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
پڈیکل نے اس چیلنج کا سامنا پورے اعتماد کے ساتھ کیا اور اپنی اننگز کے ذریعے تاریخ میں اپنا نام درج کرالیا۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ان کی یہ کامیابی مزید خاص بن جاتی ہے۔
نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز ونود کامبلی ہیں، جن کے نام چار سنچریاں ہیں۔ سورو گنگولی نے اس پوزیشن پر تین سنچریاں بنائی ہیں، جبکہ سلیم درانی، باپو نادکرنی، اجیت واڈیکر، ایکناتھ سولکر اور سریندر امرناتھ نے ایک، ایک سنچری بنائی ہے۔ اب اس فہرست میں پڈیکل کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔
پڈیکل نے جب اپنی سنچری مکمل کی، اس وقت ہندوستان کا اسکور 58 اوورز میں ایک وکٹ پر 221 رنز تھا اور ٹیم مضبوط پوزیشن میں تھی۔ تاہم پڈیکل کے لیے یہ کامیابی ٹیم کے اسکور سے کہیں زیادہ اہم تھی۔
دہلی میں گنگولی کی 136 رنز کی اننگز کے دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک اور ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز نے نمبر تین پر ٹیسٹ سنچری بنائی۔ اس کامیابی کے ساتھ پڈیکل نے خود کو صرف ابھرتے ہوئے باصلاحیت بلے بازوں کی فہرست تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہندوستانی ٹیسٹ تاریخ کے ایک مخصوص اور اہم باب میں بھی اپنا نام درج کرالیا۔







