این سی حکومت میںنوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہےـ:لون
ایجنسیاں
سرینگر؍۲۶ جون
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی ہندواڑہ ‘سجاد لون نے جمعہ کو آؤٹ سورسنگ اور بیک ڈور تقرریوں کے درمیان واضح فرق کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت کی جانب سے سرکاری شعبے کی۲۵ ہزار ملازمتوں کو نجی آؤٹ سورسنگ کے حوالے کرنا جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے خلاف کہیں زیادہ سنگین جرم ہے۔ لون نے ساتھ ہی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو بھی خبردار کیا کہ محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس معاملے کو الجھانے سے گریز کرے۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ آؤٹ سورسنگ کا معاملہ بالآخر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے درمیان الزام تراشی کی سیاست کی نذر ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو غلط طور پر بیک ڈور تقرریاں قرار دینا ان ہزاروں نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
لون نے کہا، ’’یہ بیک ڈور تقرریاں نہیں ہیں بلکہ سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ ہے، اور یہ فرق بہت اہم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھایا تو حکومت نے خود اعتراف کیا کہ۲۵ ہزار سرکاری ملازمتیں آؤٹ سورس کی گئی ہیں۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ بیک ڈور تقرریوں سے کہیں زیادہ خطرناک عمل ہے کیونکہ اس کے ذریعے سرکاری روزگار کو منظم انداز میں نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
لون نے کہا کہ اس طریقہ کار سے ایک ایسا بنیادی طور پر بدعنوان نظام وجود میں آتا ہے جس میں آؤٹ سورسنگ کمپنیاں اور برسرِ اقتدار طبقہ عام روزگار کے خواہش مند نوجوانوں کے مفادات کی قیمت پر باہم گٹھ جوڑ کرتے ہیں، جبکہ مستقل سرکاری ملازمتوں کو عارضی اور غیر محفوظ روزگار میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جنہیں کسی بھی وقت ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’ہر نئی حکومت ایک نئی آؤٹ سورسنگ ایجنسی لے کر آئے گی اور اس نظام کے تحت ملازمت کرنے والوں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘‘
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے خاص طور پر مشن واتسلیہ، جو پہلے انٹیگریٹڈ چائلڈ پروٹیکشن اسکیم (آئی سی پی ایس) کے نام سے جانا جاتا تھا، کے تحت ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ان کے لیے ذاتی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سماجی بہبود کے وزیر کی حیثیت سے اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے جموں و کشمیر میں آئی سی پی ایس کے نفاذ کی قیادت کی تھی اور پہلی مرتبہ بچوں کے تحفظ کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا تھا، جس میں ضلع سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں تاکہ بچوں کو جنسی استحصال، نوعمر قیدیوں کے مسائل اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
لون نے کہا کہ۲۰۱۹ کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے آئی سی پی ایس کے تحت تقرریوں کو آؤٹ سورس کرنے اور پہلے سے تعینات کنٹریکچول ملازمین کی خدمات ختم کرنے کی کوشش کی تھی، جس کی انہوں نے اس وقت بھی کھل کر مخالفت کی تھی۔ ملازمین نے عدالت سے رجوع کیا اور حکمِ امتناعی حاصل کر لیا، تاہم باقی آسامیاں پُر نہیں کی گئیں۔
لون نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ منتخب حکومت کی واپسی کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا جائے گا، لیکن ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب موجودہ نیشنل کانفرنس حکومت نے آئی سی پی ایس کی باقی ماندہ آسامیوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا، ’’میرے لیے یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ یہ منتخب حکومت بھی ان ملازمین کے بارے میں اپنے عزائم میں اتنی ہی بدنیت ثابت ہوئی ہے جتنی۲۰۱۹کے بعد قائم ہونے والی انتظامیہ تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر اسمبلی میں ان کے بار بار پوچھے گئے سوالات کے جوابات بھی حکومت نے انتہائی تکبر کے ساتھ دیے۔
نیشنل کانفرنس کے انتخابی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں ایک لاکھ نئی سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ایک لاکھ نئی سرکاری ملازمتیں پیدا کرنے کے بجائے انہوں نے اب تک۲۵ ہزار سرکاری ملازمتوں کو نجی ملازمتوں میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی ایک مفصل کیس اسٹڈی جاری کریں گے جس میں تاریخوں کے ساتھ یہ ثابت کیا جائے گا کہ آؤٹ سورسنگ کے اس عمل کی ذمہ داری موجودہ نیشنل کانفرنس حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
پی ڈی پی کے رہنماؤں سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ وہ نیشنل کانفرنس کو دو مختلف معاملات کو ایک بنا کر جوابدہی سے بچنے کا موقع نہ دیں۔ انہوں نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس کو آؤٹ سورسنگ کو بیک ڈور تقرریاں قرار دے کر اس سنگین معاملے سے بچ نکلنے کا موقع نہ دیں۔‘‘ انہوں نے پی ڈی پی سے اپیل کی کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اصل مسئلے پر توجہ دے۔
لون نے کہا کہ وہ پی ڈی پی کے رہنماؤں کو اس معاملے کی باریکیوں کو سمجھنے میں ہر ممکن مدد دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس پورے معاملے میں اصل متاثرین وہ ہزاروں نوجوان ہیں جو آج نجی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے رحم و کرم پر ملازمت کر رہے ہیں اور جنہیں ملازمت کے کسی بھی قسم کے تحفظ کی ضمانت حاصل نہیں۔










