ہزاروں عزاداروں کی بوٹا کدل سے امام بارہ زڈی بل تک مرکزی جلوس میں شرکت‘امام عالی مقام اور ان کے ساتھیوں کو خراج عقیدت
سیکورٹی اور بنیادی سہولیات کے جامع انتظامات، ڈرون اور سی سی ٹی وی کے ذریعے مسلسل نگرانی‘ایل جی اور وزیر اعلیٰ کی بھی شرکت
ندائے مشرق خبر
سرینگر؍۲۶ جون
میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا رفقاء کی عظیم شہادت کی یاد میں آج وادیٔ کشمیر بھر میں یومِ عاشورہ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں عزاداروں نے سری نگر میں بوٹا کدل سے امام بارہ زڈی بل تک نکالے گئے مرکزی جلوس میں شرکت کی۔
اس جلوس میں کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے عزاداروں نے شرکت کی اور زڈی بل میں ماتم، مجالس، نوحہ خوانی، مذہبی تلاوت اور دعاؤں کے ذریعے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ جلوس کے پُرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے جامع انتظامات کیے گئے تھے۔ جلوس کے راستے پر صحت کی سہولیات، پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، ٹریفک کی مناسب نگرانی اور ہنگامی امدادی خدمات کا مکمل انتظام کیا گیا تھا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ سیکورٹی کے لیے کثیر سطحی حفاظتی نظام قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا، جبکہ چوبیس گھنٹے نگرانی برقرار رکھنے کے لیے ڈرون سرویلنس اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یومِ عاشورہ کی تقریبات کی اعلیٰ سطح پر مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی تاکہ یہ مذہبی موقع مکمل طور پر پُرامن انداز میں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر اختتام پذیر ہو۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے خود زڈی بل پہنچ کر جلوس میں شرکت کی اور عزاداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے زڈی بل میں ‘ذوالجناح جلوس کے دوران حضرت امام حسینؑ اور ان کے رفقاء کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے امام عالی مقام کی قربانی کو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے ہوئے کہا’’حضرت امام حسینؑ نے امن، انصاف، محبت اور ہمدردی کے لیے جو عظیم ترین قربانی دی، وہ پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی رہنما اصول ہے۔ انہوں نے بے لوث خدمت اور پسے ہوئے طبقات کے لیے ہمدردی کا لافانی پیغام دیا۔ معاشرے کو ان کی پاکیزہ زندگی اور اصولوں سے طاقت حاصل کر کے سچائی، انصاف اور انسانیت کے راستے پر چلنا چاہیے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس دوران خود اپنے ہاتھوں سے عزاداروں میں تبرک اور پانی بھی تقسیم کیا۔
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی زادی بل کا دورہ کیا اور عزاداروں کے ساتھ شامل ہوئے۔ انہوں نے احترام اور یکجہتی کے طور پر جلوس کے راستے میں قائم ایک سبیل پر کھڑے ہو کر عزاداروں میں پانی اور دودھ تقسیم کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ان کے مشیر ناصر اسلم وانی اور مقامی ایم ایل اے تنویر صادق بھی موجود تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے جلوس کے پرامن انعقاد میں مدد کرنے والے رضاکاروں سے بات چیت کی اور ان کے جذبہ خدمت کی ستائش کی۔ بعد ازاں، انہوں نے زادی بل میں واقع معروف بزرگ میر شمس الدین عراقی کے آستانہ عالیہ پر حاضری دی، جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور جموں و کشمیر میں امن، بھائی چارے اور خوشحالی کے لیے دعا مانگی۔عاشورہ کے جلوسوں کو پرامن اور منظم طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت اور پختہ انتظامات کیے گئے تھے۔
اس دوران کشمیر وی کے بردی نے جمعہ کو کہا کہ وادی کشمیر میں عاشورہ کے جلوسوں کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور مؤثر انتظامات کیے گئے تھے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ مذہبی تقریب کے پُرسکون انعقاد کے لیے تمام ضروری سیکورٹی اور انتظامی اقدامات پہلے ہی سے ترتیب دیے گئے تھے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے اور جلوس بخوبی منعقد ہو سکے۔
بردی نے جلوس کے منتظمین اور رضاکاروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی فعال شرکت نے جلوس کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
آئی جی پی نے منتظمین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بندی کے مرحلے میں انہوں نے پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی، جس کے نتیجے میں نظم و ضبط، عوامی سہولت اور جلوس کی پُرامن نقل و حرکت کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔
بردی نے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بھرپور تعاون کیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششوں کے باعث عاشورہ انتہائی پُرامن، منظم اور باوقار انداز میں منایا گیا۔
عاشورہ کے موقع پر متوقع بڑے اجتماع کے پیش نظر سری نگر پولیس نے ایک جامع عوامی ہدایت نامہ جاری کی تھی، جس میں عزاداروں اور عام شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ محرم کے مراسم پُرامن، باوقار اور منظم انداز میں ادا کریں۔
ہدایت نامے کے مطابق جلوس میں شریک افراد سے کہا گیا تھا کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں، انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے جاری تمام ہدایات پر عمل کریں، ٹریفک پولیس اور رضاکاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، اس بات کو یقینی بنائیں کہ جلوس صرف منظور شدہ راستے اور مقررہ مقصد تک محدود رہے، تمام مذاہب اور برادریوں کے مذہبی جذبات اور عقائد کا احترام کریں، اور صفائی ستھرائی برقرار رکھتے ہوئے سرکاری و عوامی املاک کا تحفظ کریں۔
پولیس نے عوام کو یہ بھی ہدایت دی تھی کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں، امن و قانون کی صورتحال خراب کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں، اشتعال انگیز نعرے بازی یا بھڑکاؤ تقاریر سے گریز کریں، ٹریفک یا پیدل چلنے والوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا نہ کریں اور سرکاری یا عوامی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں یا ان کا غلط استعمال نہ کریں۔
ہدایت نامے میں مزید کہا گیا تھا کہ اشتعال انگیز بینر، پوسٹر، پلے کارڈ یا جھنڈے آویزاں نہ کیے جائیں، قومی پرچم کی بے حرمتی نہ کی جائے، کسی بھی ملک، تنظیم یا گروہ کی تشہیر یا ستائش نہ کی جائے، اور کسی بھی ملک، تنظیم یا گروہ کے جھنڈے یا علامتیں نہ اٹھائی جائیں اور نہ ہی ان کی نمائش کی جائے۔ اس کے علاوہ ملک کی سالمیت، خودمختاری اور اتحاد کے خلاف کسی بھی سرگرمی سے سختی سے گریز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
سری نگر پولیس نے تمام عزاداروں اور شہریوں سے مکمل تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بھرپور شراکت ہی یومِ عاشورہ کے پُرامن، باوقار اور منظم انعقاد کو یقینی بنا سکتی ہے۔










