زنسکار، نوبرا اور سیاچن بیس کیمپ تک بجلی کی ترسیل یقینی بنانے والے منصوبے مکمل ہونے کے قریب‘ ڈیزل جنریٹروں پر انحصار کم ہوگا
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۶ جون
مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بجلی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کے لیے پوری طرح تیار ہے، جہاں زنسکار، نوبرا اور سیاچن بیس کیمپ جیسے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں کو بجلی سے مربوط کرنے والے تین بڑے ٹرانسمیشن منصوبے رواں سال ستمبر کے اختتام تک مکمل ہونے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج (پی ایم ڈی پی) کے تحت نافذ کیے جا رہے یہ اہم بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے زنسکار اور نوبرا تا سیاچن بیس کیمپ بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے، بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیزل جنریٹروں پر انحصار کم کریں گے اور معزز وزیر اعظم کے کاربن نیوٹرل لداخ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس کامیابی کے ساتھ چانگ تھانگ کے علاوہ لداخ کے سات میں سے چھ اضلاع قومی پاور گرڈ سے منسلک ہو جائیں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کو حال ہی میں ایک جائزہ اجلاس کے دوران آر ای سی لمیٹڈ کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر اور حکومت ہند کی وزارتِ بجلی کے جوائنٹ سیکریٹری (ٹرانسمیشن) نے ان بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
ان منصوبوں میں دراس سے پدم تک۱۸۹ کلومیٹر طویل۲۲۰ کے وی ٹرانسمیشن لائن اور فیانگ سے ڈسکٹ تک۷۹ کلومیٹر طویل۲۲۰ کے وی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر شامل ہے، جن دونوں کو ستمبر۲۰۲۶تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کی منظور شدہ لاگت ایک ہزار۹۲۵ کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کے تحت سیاچن اور پدم جیسے دور دراز اور اسٹریٹجک علاقوں کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی اور سرحدی اسٹریٹجک علاقوں کو بجلی کے نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ لداخ کے ہر حصے، بالخصوص دور دراز اور سرحدی علاقوں میں بلا تعطل اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا گیا کہ نوبرا، چانگ تھانگ اور زنسکار سمیت کئی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے اس وقت قومی پاور گرڈ سے منسلک نہیں ہیں اور محدود مقامی ذرائع سے بجلی حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث وہاں بجلی کی فراہمی محدود اور وقفے وقفے سے ہوتی ہے۔ یہ منصوبے لداخ کے دور افتادہ علاقوں میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر وسعت دیں گے۔ زنسکار میں چار سب اسٹیشن قائم کیے جائیں گے تاکہ وادی کے تمام حصوں تک بجلی پہنچائی جا سکے۔
اسی طرح نوبرا میں سیاچن بیس کیمپ اور پرتاپور میں دو سب اسٹیشن تعمیر کیے جائیں گے۔ چانگ تھانگ میں۶۶ کے وی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے تحت آٹھ سب اسٹیشن تجویز کیے گئے ہیں، جن میں دربک، فوبرانگ، چوشول، مودھ۔نیومہ، کورزوک، ہنلے، کویول اور چوماتھانگ شامل ہیں، جن سے اس وسیع و بلند سطح مرتفع علاقے میں بجلی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے کہا، ’’قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی محض بنیادی ڈھانچے کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیم، صحت، روزگار، سیاحت، ڈیجیٹل رابطے اور اقتصادی مواقع کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ سیاحت، صنعت کاری اور ان دور دراز علاقوں میں مقامی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گی۔ نوبرا اور زنسکار جیسے علاقوں کو پہلی مرتبہ قومی پاور گرڈ سے جوڑنا لداخ کی ترقی کے سفر میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہ منصوبے غیر معمولی اسٹریٹجک اور ترقیاتی اہمیت کے حامل ہیں، جن سے لداخ کے ہر گھر اور ہر گاؤں کو چوبیس گھنٹے بجلی اور اس سے وابستہ ترقیاتی مواقع میسر آئیں گے۔‘‘
ان منصوبوں کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے وی کے سکسینہ نے کہا کہ نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن سرحدی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنائیں گے، مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر کریں گے اور لداخ کے انتہائی دور دراز علاقوں کی ہمہ گیر ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تمام عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ باہمی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کریں تاکہ لداخ، خصوصاً دور دراز اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کو جلد از جلد قابل اعتماد اور چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی سے فائدہ پہنچ سکے۔










