جلوس گرو بازار سے شروع ہوا اور بڈشاہ کدل، جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے گزرتا ہوا ڈل گیٹ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا
محرم جلوسوں کی نگرانی کی جا رہی ہے ‘کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری ردعمل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں:گرگ
ویب ڈیسک
سری نگر؍۲۴ جون
وادی کشمیر میں بدھ کے روز آٹھویں محرم کا روایتی جلوس سری نگر شہر کے قلب میں عقیدت و احترام کے ساتھ نکالا گیا، جس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ سخت اور کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کے درمیان مسلسل چوتھے سال عزاداروں کو گرو بازار سے ڈل گیٹ تک اپنے روایتی راستے پر جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی۔
جلوس صبح سویرے گرو بازار سے شروع ہوا اور بڈشاہ کدل، جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے گزرتا ہوا ڈل گیٹ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران عزاداروں نے کربلا کے شہداء کی یاد میں سیاہ علم، ایرانی پرچم اور مقدس مذہبی شخصیات کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
وادی کے مختلف علاقوں سے آئے رضاکاروں نے جلوس کے راستے میں جگہ جگہ سبیلیں اور امدادی کیمپ قائم کیے تھے، جہاں عزاداروں میں پانی، جوس اور دیگر مشروبات تقسیم کیے گئے۔ اس کے علاوہ طبی امداد فراہم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر مفت میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے تھے۔
عزادار ابرار علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’آج آٹھ محرم ہے اور جلوس گرو بازار سے ڈل گیٹ تک نکالا جا رہا ہے۔ مسلسل چوتھے سال شیعہ برادری کو اس جلوس کی اجازت دی گئی ہے جس پر ہم خوش اور شکر گزار ہیں، کیونکہ پہلے یہ جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ ہم انتظامیہ کے شکر گزار ہیں جس نے تمام ضروری انتظامات کیے اور ٹریفک پولیس کو سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ پورے راستے پر ٹریفک کا نظم بہتر رہا اور کوئی بڑی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔‘‘
علی نے رضاکاروں اور طبی عملے کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ عزاداروں کی سہولت کے لیے قائم سبیلیں اور میڈیکل کیمپ قابل ستائش ہیں۔
شدید گرمی سے راحت فراہم کرنے کے لیے سری نگر میونسپل کارپوریشن نے جلوس کے پورے راستے پر واٹر سپرنکلرز تعینات کیے تھے۔ انتظامیہ نے جلوس کے پُرامن انعقاد کے لیے وسیع حفاظتی اور شہری سہولیات کے انتظامات کیے تھے۔ جلوس کے راستے سے ملحقہ اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا رخ موڑا گیا جبکہ مختلف اضلاع سے آنے والے عزاداروں کے لیے مخصوص پارکنگ مقامات بھی مختص کیے گئے تھے۔
ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد مقامات پر طبی ٹیمیں تعینات رہیں۔ سکیورٹی فورسز نے بعض شرائط کے ساتھ جلوس کی اجازت دی تھی، جن میں بین الاقوامی یا انتظامیہ مخالف نعرے، تقاریر اور پروپیگنڈہ پر پابندی شامل تھی۔ حکام نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے، قومی علامات کے احترام اور امن و امان کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں سے اجتناب کی بھی ہدایت دی تھی۔
ایک اور عزادار سید شہباز حسینی نے کہا، ’’جب سے اس جلوس پر عائد پابندی ختم کی گئی ہے، ہر سال ہزاروں افراد اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کشمیر بھر سے رضاکار مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چاہے مشروبات کی فراہمی ہو، طبی امداد ہو یا دیگر سہولیات، یہ سب انتظامات اس موقع کی خدمت اور بھائی چارے کی روایت کو ظاہر کرتے ہیں۔‘‘
کئی شرکاء نے انتظامات اور حفاظتی اقدامات پر جموں و کشمیر انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا۔
یہ مسلسل چوتھا سال ہے جب انتظامیہ نے آٹھویں محرم کے جلوس کو سری نگر شہر کے مرکز سے گزرنے والے روایتی راستے پر نکالنے کی اجازت دی ہے، جس کا شیعہ برادری اور عام شہریوں نے خیر مقدم کیا ہے۔
دریں اثنا، ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گرگ نے کہا کہ وادی بھر میں محرم کے جلوسوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام جلوسی راستوں پر فوری ردعمل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر ضلع انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں نے جلوسی راستوں پر وسیع انتظامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محرم کے پُرامن انعقاد کے لیے انتظامیہ اور مختلف اسٹیک ہولڈرز باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں، جبکہ اسی دوران سالانہ امرناتھ یاترا کی تیاریوں اور کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
گرگ کے مطابق یکم، آٹھویں اور دسویں محرم کے اہم اجتماعات کے لیے محرم کمیٹیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’تمام جلوسی راستوں پر فوری امدادی ٹیمیں تعینات ہیں تاکہ عزاداروں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔‘‘
صوبائی کمشنر نے عوام کا تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور اجازت ناموں پر عمل کریں۔
گرگ نے کہا کہ محرم کی تقریبات تقریباً۴۰ سے۵۰ دن تک جاری رہتی ہیں اور ان کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام فریقوں کی اجتماعی ذمہ داری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ محرم، امرناتھ یاترا اور سیاحتی موسم بیک وقت جاری ہیں، اس لیے انتظامیہ، میڈیا، رضاکاروں اور عوام کو مل کر تمام سرگرمیوں کے بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہوگا۔
صوبائی کمشنر نے لوگوں سے ٹریفک منصوبہ بندی میں تعاون کرنے، آنے والے یاتریوں اور سیاحوں کا خیرمقدم کرنے اور ضرورت پڑنے پر اپنی تجاویز ضلعی انتظامیہ تک پہنچانے کی اپیل کی۔ گرگ نے کہا، ’’ہماری ترجیح تمام محرم جلوسوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔ امرناتھ یاترا کی تیاریوں کو اس سال مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس بار زیادہ عقیدت مند یاترا میں شرکت کریں گے۔‘‘
گرگ نے کشمیر کی پُرامن روایات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تعاون ہی تمام تقریبات کے کامیاب اور پُرامن انعقاد کی بنیاد ہے۔










