ایل جی سنہا کی یونیورسٹی کے متعدد اصلاحاتی اقدامات کی منظوری
(ڈی آئی پی آر )
سرینگر؍۲۴ جون
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے بدھ کے روز لوک بھون میں شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (سکواسٹ) کشمیر کی۳۶ویں یونیورسٹی کونسل میٹنگ کی صدارت کی۔
یونیورسٹی کونسل نے متعدد ادارہ جاتی اصلاحات کی منظوری دی، جن میں ایگریکلچرل ریسرچ انفارمیشن سسٹم کو ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنا، انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل کو ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی ایشورنس میں اپ گریڈ کرنا اور بین الاقوامی طلبہ سیل کا قیام شامل ہے تاکہ عالمی سطح پر روابط اور طلبہ کی معاونت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
اجلاس میں سکواسٹ کشمیر کے مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت تین اہم اور خود کفیل منصوبے بھی پیش کیے گئے۔ ان میں زرعی اختراع، تجزیہ اور سرٹیفکیشن کے مرکز کو قومی ریفرنس لیبارٹری کے طور پر قائم کرنا‘۵۰ سے زائد سکواسٹ اسٹارٹ اپ اداروں کی سرپرستی اور میزبانی کے لیے ایگری اسٹارٹ اپ پارک کا قیام، اور عالمی معیار کے ویٹرنری اسکول کے قیام کی تجویز شامل ہے، جو ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور جدید طبی خدمات کا بین الاقوامی مرکز ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹی کے مقامی سطح سے عالمی افق تک کے شاندار سفر کو سراہتے ہوئے تعلیمی، تحقیقی، اختراعی، کاروباری اور بین الاقوامی شراکت داری کے شعبوں میں اس کی مسلسل ترقی کی تعریف کی۔
سنہا نے کہا کہ سکواسٹ کشمیر کے انقلابی اقدامات اسے ایک جدید، اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر سرگرم زرعی یونیورسٹی کے طور پر نمایاں مقام دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے وائس چانسلر سکواسٹ کشمیر کو ہدایت دی کہ یونیورسٹی کونسل کے اجلاس سال میں کم از کم دو مرتبہ باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں تاکہ تعلیمی اور انتظامی امور کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران یونیورسٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے بتایا کہ سکواسٹ کشمیر ایک علاقائی تعلیمی ادارے سے ترقی کرتے ہوئے قومی سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹی بن چکی ہے اور زرعی و متعلقہ علوم میں عالمی معیار کے ادارے کے طور پر ابھرنے کے واضح وژن پر گامزن ہے۔
پروفیسر گنائی نے تعلیم، تحقیق، اختراع اور سماجی اثرات کے شعبوں میں یونیورسٹی کی کامیابیوں اور مستقبل کے اہداف پر بھی روشنی ڈالی۔
وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی نے قومی درجہ بندی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جموں و کشمیر کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے، جبکہ پیٹنٹس، ٹریڈ مارکس اور ڈیزائن سمیت۱۲۳ دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آرز) حاصل کیے ہیں، جو اختراع اور تحقیقی سرگرمیوں میں اس کی مضبوط کارکردگی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت یونیورسٹی کے تقریباً۳۰ فیصد طلبہ جموں و کشمیر سے باہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس کی بڑھتی ہوئی قومی رسائی اور تعلیمی ساکھ کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، وزیر زراعت، دیہی ترقی، پنچایتی راج اور کوآپریٹوز جاوید احمد ڈار، چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ زراعت ڈاکٹر آشیش چندر ورما، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ خزانہ شیلندر کمار، نیتی آیوگ کی کمیٹی برائے زرعی اصلاحات کے چیئرمین ڈاکٹر اشوک دلوائی، آئی سی اے آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر یشپال ملک، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، سکواسٹ کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی، سکواسٹ جموں کے وائس چانسلر ڈاکٹر بی این ترپاٹھی، کمشنر سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقی آر ایلس واز، رجسٹرار سکواسٹ کشمیر ڈاکٹر عظمت عالم خان اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔










