عوامی خدمات کی فراہمی میں جموںکشمیر ملک بھر میں سرفہرست :سنہا
(ڈی آئی پی آر )
سرینگر؍۲۳ جون
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقدہ ’’سیوا سے سمردھی پنچایت کی قیادت میں خدمات کی فراہمی‘‘ علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں تاریخی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور سہ سطحی پنچایتی راج نظام نے شمولیتی ترقی کے ایک نئے انقلاب کو جنم دیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’۲۰۲۰ میں ہم نے ایک ایسے جموں و کشمیر کی تعمیر کا عزم کیا جہاں حکومت عوام کی دہلیز تک پہنچے۔ ’لوگ پہلے‘ کے نظریے کے تحت ہم نے عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام میں انقلابی تبدیلی لائی۔۲۰۲۰ میں جہاں صرف۲۵ آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں۲۰۲۳ تک ان کی تعداد بڑھ کر۱۱۰۰ سے زیادہ ہو گئی اور جموں و کشمیر نے قومی سطح پر ای-سروس فراہمی کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔‘‘
سنہا نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی میں سب سے مضبوط آواز اور سب سے بڑا شراکت دار بنایا گیا۔ ’’بلاک دیوس‘‘ اور ’’بیک ٹو ولیج‘‘ جیسی مہمات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ عوامی خدمات گھروں تک پہنچیں، بنیادی ڈھانچہ مقامی ضروریات کے مطابق ہو اور پالیسیاں نچلی سطح سے اوپر کی جانب تشکیل پائیں۔
ایل جی نے کہا کہ انتظامیہ نے عام آدمی کی امنگوں کو حکمرانی کا مرکز بنایا اور جوابدہی و عوامی شمولیت کو یقینی بنا کر صرف تین برسوں میں نسل در نسل تبدیلی کے عزم کو حقیقت میں بدلا اور عوام کے ساتھ اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، ہماچل پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ سے آئے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوامی خدمات کی فراہمی کے کامیاب ماڈلز، جن میں بیمز ایمپاورمنٹ ، ’’آپ کی زمین، آپ کی نگرانی‘‘ اور ’’یور موبائل، آور آفس‘‘ شامل ہیں، کا مطالعہ کریں جنہوں نے دیہی علاقوں میں خدمات کی فراہمی اور حکومتی پروگراموں کے نفاذ کو یکسر بدل دیا ہے۔
سنہا نے حکومت ہند کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ۲۰۲۶ سے۲۰۱۸ کے درمیان جموں و کشمیر میں تین برسوں کے دوران دو کروڑ ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ صرف۲۰۲۳ کے پہلے چھ ماہ میں۵۰ کروڑ ڈیجیٹل لین دین انجام پائے، جو مہاراشٹر، تمل ناڈو، پنجاب، اوڈیشہ، کرناٹک اور کیرالہ جیسی کئی بڑی ریاستوں سے بھی زیادہ ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج جموں و کشمیر میں۱۵ ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز فعال ہیں اور۴۲۹۰ پنچایتوں میں سے۴۲۱۱ ؍اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو۹۸ء۱۶ فیصد کوریج کی نمائندگی کرتا ہے۔ باقی۷۹ پنچایتیں انتہائی دور دراز اور سرحدی علاقوں میں واقع ہیں جہاں رابطہ کاری اب بھی ایک چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے کامیاب ماڈلز، بہترین طریقہ ہائے کار اور اختراعات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہے تاکہ آخری شخص تک خدمات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔
سنہا نے کہا کہ یہ علاقائی کانفرنس ہندوستان کی تین بنیادی خصوصیات یعنی تنوع میں اتحاد، تعاون کے ذریعے طاقت اور خدمت کے ذریعے خوشحالی کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کی پنچایتیں محض انتظامی اکائیاں نہیں ہوں گی بلکہ اختراع، مساوی مواقع، پائیدار ترقی اور عوامی اعتماد کے متحرک مراکز بنیں گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے شرکاء کے سامنے پانچ اہم سفارشات بھی پیش کیں۔ انہوں نے ہر پنچایت میں ’’ولیج انوویشن لیب‘‘ قائم کرنے، جدید تربیتی پروگراموں کے انعقاد، شراکتی بجٹ سازی کو ادارہ جاتی شکل دینے، گرین جموں و کشمیر، ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ اور ’’ایک پیڑ بیٹی کے نام‘‘ جیسی پائیدار ترقی کی مہمات کو فروغ دینے اور تمام اسکیموں میں خواتین کو قیادی کردار دینے پر زور دیا۔
ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں خواتین کو منشیات کے خلاف مہم، صاف پینے کے پانی کی فراہمی، ڈیری، صحت، تعلیم اور سماجی مساوات جیسے شعبوں میں قیادت دی گئی ہے۔
ورکشاپ کے دوران ضلع کپواڑہ کی پنڈت پورہ گرام پنچایت اور بڈگام کے کامن سروس سینٹر کے ولیج لیول انٹرپرینیور سید وارث حافظ سمیت مختلف ریاستوں کی نمایاں پنچایتوں اور سی ایس سی مراکز کو اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب میں دیہی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، سول سوسائٹی، تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور آخری سطح تک خدمات کی فراہمی اور مقامی طرزِ حکمرانی پر اپنے خیالات پیش کیے۔
ورکشاپ میں پنچایتوں کی قیادت میں عوامی خدمات کی فراہمی کو ڈیجیٹل تبدیلی، عوامی شمولیت، اختراع اور خدمات تک رسائی میں بہتری کے ذریعے مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ مختلف ریاستوں کے تجربات اور کامیاب ماڈلز بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے گئے۔










