یاترا سے قبل بھگوتی نگر بیس کیمپ میں فورسز کی مشترکہ موک ڈرل
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۳ جون
جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نلین پربھات نے پیر کے روز پہلگام میں واقع ننون بیس کیمپ کا دورہ کرکے آئندہ شری امرناتھ جی یاترا کے پیش نظر سیکورٹی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر اسپیشل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ایس ڈی جی) کوآرڈی نیشن اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر زون بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سینئر پولیس اور سیکورٹی حکام نے دورہ کرنے والے افسران کو سالانہ یاترا کے محفوظ اور ہموار انعقاد کے لیے وضع کیے گئے کثیر سطحی سیکورٹی نظام کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کی۔
دورے کے دوران ڈی جی پی کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی کشمیر رینج اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اننت ناگ کی جانب سے مجموعی سیکورٹی گرڈ، فورسز کی تعیناتی کی حکمت عملی، نگرانی کے اقدامات، رسائی کنٹرول نظام، ہنگامی ردعمل کے منصوبوں اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان تال میل کے حوالے سے جامع پریزنٹیشن دی گئی۔
افسران نے ڈی جی پی کو بیس کیمپ اور یاترا روٹ پر کیے گئے انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جن میں چوبیس گھنٹے نگرانی، علاقے میں تسلط قائم رکھنے کی مشقیں، اینٹی سبوتاژ چیکنگ اور ممکنہ سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اضافی چوکسی شامل ہے۔
تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے ڈی جی پی نلین پربھات نے یاتریوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کی خاطر تمام سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطے اور اعلیٰ سطح کی مستعدی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ ہر وقت چوکس رہیں اور تمام سیکورٹی پروٹوکولز پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
یہ دورہ سالانہ امرناتھ یاترا سے قبل جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے سیکورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ یاترا آئندہ ماہ شروع ہونے والی ہے۔
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مقدس امرناتھ غار کی زیارت کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کو محفوظ، پُرامن اور ہر قسم کی دشواری سے پاک یاترا کا تجربہ فراہم کیا جائے گا۔
اس دوران ٓئندہ شری امرناتھ یاترا کی تیاریوں کے سلسلے میں منگل کے روز یہاں بھگوتی نگر بیس کیمپ میں مختلف سکیورٹی اور ڈیزاسٹر رسپانس ایجنسیوں کی جانب سے ایک مشترکہ موک ڈرل کا انعقاد کیا گیا۔ حکام کے مطابق۵۷ روزہ امرناتھ یاترا۳ جولائی سے شروع ہو رہی ہے۔
بھگوتی نگر کے وسیع و عریض یاتری نواس میں صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی اس مشق میں نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی)، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) نے حصہ لیا۔
بھگوتی نگر یاتری نواس ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کے لیے مرکزی بیس کیمپ کا کردار ادا کرتا ہے، جہاں سے وہ کشمیر روانہ ہو کر سطح سمندر سے۳۸۸۰ میٹر کی بلندی پر واقع مقدس امرناتھ غار میں قدرتی طور پر تشکیل پانے والے برفانی شیو لنگم کے درشن کے لیے جاتے ہیں۔
یاترا کے آغاز سے ایک روز قبل عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو اسی بیس کیمپ سے روانہ کیا جائے گا۔ یاترا دو راستوں سے انجام دی جائے گی، جن میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کا روایتی۴۸ کلومیٹر طویل پہلگام راستہ اور وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کا۱۴ کلومیٹر طویل مگر نسبتاً دشوار گزار بالتل راستہ شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ موک ڈرل کے دوران مختلف ہنگامی حالات کی فرضی مشقیں کی گئیں تاکہ شریک ایجنسیوں کی تیاری، باہمی رابطے اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
مشق کے دوران جدید نگرانی کے آلات، بشمول ڈرونز، کا استعمال کیا گیا جبکہ تخریب کاری کے خدشات کی جانچ اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے ڈاگ اسکواڈ بھی تعینات کیے گئے۔حکام کے مطابق اس موک ڈرل کا مقصد سالانہ یاترا سے قبل سکیورٹی انتظامات کو مزید مستحکم بنانا اور ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کے نظام کو مؤثر بنانا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس مشق میں مختلف ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری، ہجوم کے نظم و نسق، ہنگامی انخلا کے طریقہ کار اور دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی۔










