’مکھرجی نے ’ایک ملک، ایک آئین‘ کیلئےجان قربان کی؛ کشمیر میں علیحدہ آئینی نظام قومی یکجہتی کے لیے خطرہ تھا‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۳ جون
مرکزی وزیر داخلہ‘ امت شاہ نے پیر شیاما پرساد مکھرجی کی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ملک کے عظیم ترین رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان کی وحدت اور سالمیت کے تحفظ میں ان کی خدمات نہایت اہم رہی ہیں۔
نئی دہلی میں نافیڈ کے آکشن پورٹل کے آغاز کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ۲۳ جون بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل دن ہے کیونکہ اسی روز مکھرجی نے قومی اتحاد کے مقصد کے لیے اپنی جان قربان کی تھی۔
شاہ نے کہا، ’’آج۲۳ جون کا دن مجھ جیسے بے شمار بھارتیہ جنتا پارٹی کارکنوں کے لیے انتہائی حوصلہ افزا دن ہے۔ اسی دن شیاما پرساد مکھرجی نے ملک کو متحد رکھنے اور ’ایک ملک، ایک آئین، ایک رہنما‘ کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی جان قربان کی تھی۔‘‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ مکھرجی کی جموں و کشمیر کی ایک جیل میں مشتبہ حالات میں موت ہوئی تھی اور انہیں مناسب طبی علاج بھی فراہم نہیں کیا گیا تھا۔
شاہ نے تقسیمِ ہند کے دوران مکھرجی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد کی کہ مغربی بنگال ہندوستان کا حصہ رہے جبکہ مشرقی بنگال پاکستان میں شامل ہو۔
انہوں نے کہا، ’’آزادی سے قبل جب تقسیم کا عمل جاری تھا تو شیاما پرساد مکھرجی نے برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی تاکہ مغربی بنگال ہندوستان میں رہے اور مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ بنے۔ آج مغربی بنگال ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے تو اس میں ان کا بڑا کردار ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کو حاصل سابقہ خصوصی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ آرٹیکل۳۷۰ کے تحت خطے میں ایک الگ آئینی ڈھانچہ قائم ہو گیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’ملک کی آزادی کے بعد کشمیر میں آرٹیکل۳۷۰ نافذ کیا گیا۔ کشمیر کا اپنا ریاستی پرچم، اپنا الگ آئین، اپنا وزیر اعظم اور اپنا صدر تھا۔ یہ تصور ہندوستان کی وحدت اور سالمیت کے لیے انتہائی خطرناک تھا۔‘‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ مکھرجی نے اس نظام کے خلاف تحریک شروع کی اور نعرہ دیا کہ ’’ایک ملک میں دو آئین، دو جھنڈے اور دو وزیر اعظم نہیں ہو سکتے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’انہوں نے دہلی سے کشمیر تک مارچ کیا۔ جب وہ کشمیر کی سرحد پر پہنچے تو ان سے پرمٹ طلب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’کشمیر میرے ملک کا حصہ ہے، مجھے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں۔‘ ‘‘
شاہ نے کہا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں داخلے کے لیے رائج پرمٹ نظام کو تسلیم کرنے سے انکار پر مکھرجی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا، ’’انہیں وہاں گرفتار کیا گیا۔ اسی مسئلے پر انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی پہلی کابینہ میں صنعت کے وزیر کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔‘‘
وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰کی منسوخی کے ساتھ شیاما پرساد مکھرجی کا خواب پورا ہو گیا۔انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ، جس کی بنیاد مکھرجی نے رکھی تھی، کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں تبدیل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’آج شیاما پرساد مکھرجی کا خواب پورا ہو چکا ہے۔ آرٹیکل۳۷۰ ختم کر دیا گیا ہے اور ان کی قائم کردہ بھارتیہ جن سنگھ آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل میں موجود ہے جو بنگال میں گنگا سے گنگا ساگر تک حکمرانی کر رہی ہے۔‘‘
مرکزی وزیر داخلہ نے نافیڈ کے نیلامی پورٹل کی بھی تعریف کی اور دعویٰ کیا کہ اس اقدام کے ذریعے ادارہ۵۰۰ کروڑ روپے کے منافع اور۳۰ہزار کروڑ روپے کے کاروبار تک پہنچ چکا ہے۔
شاہ نے کہا’’۲۰۱۴ میں نافیڈ بند ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا، لیکن انہی اقدامات کی بدولت آج اس کا کاروبار۳۰ ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، اسے۵۰۰ کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا ہے اور یہ ملک بھر کے۷۶لاکھ کسانوں کی خدمت کر رہا ہے۔‘‘
دریں اثنا بی جے پی کے صدر نتن نبین نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے خواب اور قربانی کو حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
پارٹی ہیڈکوارٹر میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے۷۳ ویں یومِ شہادت کے موقع پر انہیں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے نتن نبین نے کہا کہ مکھرجی نے قومی اتحاد اور سالمیت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اور وہ ایک مضبوط اور متحد ہندوستان کے نظریے کے پُرجوش حامی تھے۔
نبین نے کہا، ’’وہ ایک عظیم قوم پرست، ممتاز مفکر اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ صنعت تھے۔ جس خواب کو انہوں نے دیکھا اور جس مقصد کے لیے قربانی دی، وہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کشمیر سے آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی میرے خیال میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔‘‘
بی جے پی صدر نے اسی تناظر میں مشہور نعرہ دیا تھا: ’’ایک دیش میں دو وِدھان، دو پردھان اور دو نشان نہیں چلیں گے‘‘ یعنی ’’ایک ملک میں دو آئین، دو وزیر اعظم اور دو پرچم نہیں ہو سکتے۔‘‘
ملک بھر میں بی جے پی رہنماؤں نے ڈاکٹر مکھرجی کے یومِ شہادت پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور قوم کی تعمیر میں ان کی خدمات کو یاد کیا۔دہلی میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، دہلی بی جے پی صدر ہرش ملہوترا اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے بھی ڈاکٹر مکھرجی کو گلہائے عقیدت پیش کیے اور ان کی برسی کے موقع پر شجرکاری مہم میں حصہ لیتے ہوئے پودے لگائے۔ (ایجنسیاں)










