لیہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کا مرکز پر وعدوں سے انحراف کا الزام؛ ریاستی درجہ، چھٹی شیڈول اور آئینی تحفظات کے مطالبات دہرائے
ایجنسیاں
لیہ؍۲۳ جون
لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی جانب سے منگل کو دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں معمولاتِ زندگی متاثر رہے، جبکہ ہزاروں افراد نے یہاں ایک ریلی میں شرکت کرکے مرکز کے ساتھ ’’بااعتماد مذاکرات‘‘ کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی تنظیموں نے حکومت پر ’’اعتماد کے فقدان‘‘ کو مزید گہرا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ۲۲ مئی کو ہونے والے مذاکرات میں طے پانے والی اہم باتوں کو سرکاری میٹنگ منٹس میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ شراب پالیسی، زمین، بجلی، ٹرانسپورٹ اور سیاحت جیسے معاملات پر عوام سے مشاورت کے بغیر فیصلے کر رہی ہے۔
لیہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس مشترکہ طور پر لداخ کو ریاستی درجہ دینے اور خطے کو آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت تحفظات فراہم کرنے کے مطالبات کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ ان مطالبات کے سلسلے میں۲۰۲۱ سے اب تک مرکز کے ساتھ کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے۔
ایل اے بی اور کے ڈی اے کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ۲۲ مئی کے مذاکرات میں لداخ کے لیے ایک مجوزہ جمہوری ڈھانچے پر بھی گفتگو ہوئی تھی، جس میں قانون سازی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کے ساتھ ساتھ مجوزہ آرٹیکل ۳۷۱ کے کے ذریعے آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
دونوں تنظیموں نے لداخ بھر میں ہڑتال اور لیہ قصبے میں ریلی کی کال دیتے ہوئے مرکز پر الزام لگایا کہ اس نے یونین ٹیریٹری کے سیاسی اور آئینی مستقبل سے متعلق ذیلی کمیٹی کی سطح پر طے پانے والی مفاہمت کا احترام نہیں کیا۔
ہڑتال کے باعث لیہ اور کارگل سمیت یونین ٹیریٹری کے بیشتر علاقوں میں دکانیں، تجارتی ادارے اور نجی تعلیمی ادارے بند رہے۔ تاہم جاری سیاحتی سیزن کے پیش نظر ہڑتال سے مستثنیٰ قرار دی گئی ٹرانسپورٹ سروس معمول کے مطابق چلتی رہی۔
ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ دورجے کے مطابق مذاکرات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ چیف سیکریٹری سمیت پوری بیوروکریسی لداخ کے عوام کی قیادت میں قائم ایک انتظامی ڈھانچے کے ماتحت کام کرے گی۔تاہم تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعد میں جاری کیے گئے اجلاس کے منٹس میں ان نکات کی مناسب عکاسی نہیں کی گئی۔
مرکز پر تاخیری حربے استعمال کرنے اور گزشتہ پانچ برس کے دوران متعدد مذاکراتی دور ہونے کے باوجود لداخ کے دیرینہ مطالبات پر کوئی بامعنی پیش رفت نہ کرنے کا الزام دہراتے ہوئے دورجے نے مطالبہ کیا کہ تمام مسائل کے پُرامن حل کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال کا مقصد لداخ کے مسائل کے حل میں مرکز کی ’’عدم سنجیدگی‘‘ کے خلاف عوامی احتجاج ریکارڈ کرانا اور مذاکرات کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے نئی شراب پالیسی، اراضی کی تبدیلی سے متعلق قوانین اور سیاحت کے شعبے میں اصلاحات سمیت بند کمروں میں کیے گئے تمام فیصلوں کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ فیصلے لداخ کے عوام کی امنگوں اور مفادات کے منافی ہیں۔
انہوں نے بعض مشنری گروپوں کی مبینہ سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقامی آبادی کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے لداخ کی منفرد ثقافتی اور مذہبی شناخت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ (ایجنسیاں)










