سندھ طاس معاہدے پر خواجہ آصف کے جنگ کا انتباہ مسترد‘بھارت کا پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام
پی او کے کے حالات اسلام آباد کی ’’دہائیوں پر محیط معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر‘‘ کا براہ راست نتیجہ :جیسوال
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۳ جون
بھارت نے منگل کو پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ’’جنگ پر جانے‘‘ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات پاکستان کی جانب سے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستانی وزیر دفاع کے بیان سے متعلق رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
جیسوال نے کہا، ’’اس قسم کے بیانات پاکستان کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک بے چین کوشش ہیں۔ ہم ان من گھڑت الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘‘
بھارت کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کی آبی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو اسلام آباد بھارت کے خلاف جنگ کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر(پی او کے) کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حالات پاکستان کی ’’دہائیوں پر محیط معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر‘‘ کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
جیسوال نے الزام لگایا کہ پاکستان نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں کے ساتھ قابل مذمت رویہ اختیار کیا ہے، جس میں ضروری اشیا اور ادویات کی فراہمی روکنا، انٹرنیٹ بند کرنا اور نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال شامل ہے۔
جیسوال نے کہا، ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ان اقدامات کے نتیجے میں متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کو اس کے اقدامات، غلط کاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے گی۔‘‘
خواجہ آصف نے یہ بیان پاکستان میں جاری آبی بحران اور داخلی عدم استحکام کے تناظر میں دیا تھا۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے بعد خواجہ آصف نے ہفتے کے روز اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’جس لمحے ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری قومی سلامتی، اور پانی ہماری قومی سلامتی کا حصہ ہے، خطرے میں ہے، ہم یقیناً بھارت کے خلاف جنگ کریں گے۔‘‘
بھارت نے گزشتہ سال مئی میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے کے بعد، جس میں۲۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، پاکستان کے خلاف اٹھائے گئے پانچ بڑے اقدامات میں سے ایک کے طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر پاکستان کو اس بات کے شواہد ملے کہ بھارت تیزی کے ساتھ اس کے پانی کی فراہمی متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسلام آباد عسکری کارروائی پر بھی غور کر سکتا ہے۔
اگرچہ ماہرین پاکستان کے آبی بحران کی بڑی وجہ ناقص انتظامی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں، تاہم خواجہ آصف نے بھارت پر ’’پانی کو ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کرنے، دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں رد و بدل اور آبی اعداد و شمار روکنے کا الزام عائد کیا تھا۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ اور اس کے پانچ معاون دریاؤں ‘ستلج، بیاس، راوی، جہلم اور چناب ‘کے پانی کی تقسیم اور معلومات کے تبادلے کے لیے طے پایا تھا۔
اس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی چناب، جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کے لیے مختص کیا گیا، جبکہ مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کے استعمال کا حق بھارت کو حاصل ہے۔
معاہدے کے مطابق بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو محدود غیر مصرفی، زرعی، گھریلو استعمال اور پن بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کی بھی اجازت حاصل ہے۔










