’ ہمارے لئے ایک محفوظ ٹاؤن شپ قائم کی جائے اور ہماری باوقار واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۲ جون
ویدک منتروں کی گونج اور شنکھ کی آوازوں کے درمیان ہزاروں عقیدت مندوں نے اتوار کے روز تولہ مولہ میں واقع کھیر بھوانی مندر میں زیستھ اشٹمی کا تہوار مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا۔ کشمیری پنڈت برادری کے اس اہم ترین مذہبی تہوار کے موقع پر کئی زائرین نے ایک بار پھر اپنی آبائی سرزمین میں باوقار اور محفوظ واپسی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
سالانہ میلے میں گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی بھیڑ دیکھی گئی اور ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں عقیدت مندوں نے وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع مندر میں ماتا رگنیا بھگوتی کے درشن کیے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سینئر سول اور پولیس حکام کے ہمراہ مندر کا دورہ کیا اور مذہبی رسومات اور خصوصی دعاؤں میں شرکت کی۔
یہ تہوار دیوی رگنیا بھگوتی کے ظہور کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کشمیر میں دیوی کے نام سے منسوب متعدد مندروں بشمول تلہ مولہ کے کھیر بھوانی، دیوسر کے تری پور سندری، منزگام، لوکٹی پورہ اور ٹکر کے رگنیا بھگوتی مندروں میں بھی اس موقع پر تقریبات منعقد کی گئیں۔
بے گھر کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے یہ یاترا محض ایک مذہبی سفر نہیں بلکہ اپنی جڑوں اور آبائی وطن سے جذباتی وابستگی کا اظہار بھی تھی۔
بنگلور میں مقیم اور اصل میں سری نگر سے تعلق رکھنے والی۷۸ سالہ روپا نے کہا کہ انہوں نے اپنی برادری کی جلاوطنی کے خاتمے کے لیے دعا کی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ زندگی کے آخری ایام اپنی سرزمین میں گزار سکیں۔
اسی طرح کے جذبات جنوبی کشمیر کے کِلام گاؤں کے رہائشی پریم ناتھ نے بھی ظاہر کیے جو اس وقت ممبئی میں مقیم ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے اجتماعی طور پر دعا کی کہ ہماری برادری محفوظ اور پُرامن ماحول میں اپنے وطن واپس لوٹ سکے۔‘‘
دن بھر مندر کا احاطہ عقیدت مندوں سے کھچا کھچ بھرا رہا۔ زائرین نے دعائیں مانگیں، چراغ روشن کیے اور دیوی کی مدح میں بھجن گائے۔ بھاری رش کے باعث مندر، یگیہ شالہ اور لنگر خانوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔کئی عقیدت مندوں نے وادی میں کشمیری پنڈتوں کے لیے محفوظ وطن کے قیام کے اپنے دیرینہ مطالبے کو بھی دہرایا۔
کلواگیشوری ٹیمپل ایسوسی ایشن کے صدر رتن لال زتشی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ برادری کی بازآبادکاری کے لیے عملی اقدامات کرے۔انہوں نے کہا، ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کے لیے ایک محفوظ ٹاؤن شپ قائم کی جائے اور ان کی باوقار واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔‘‘
اشوک کمار رینہ کے فرزند وکاس رینہ، جن کے والد دہشت گردوںکے ہاتھوں مارے گئے تھے، نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت کشمیری پنڈتوں کے محفوظ وطن کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہم آج بھی ملک کی قیادت کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں تاکہ ایسا مستقل حل سامنے آئے جو بے گھر کشمیری پنڈتوں کے تحفظ، وقار اور مستقل بازآبادکاری کو یقینی بنا سکے۔‘‘
اس دوران مندر میں کئی جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے جب مقامی مسلمانوں نے وادی آنے والے کشمیری پنڈتوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس موقع پر مشترکہ تہذیب، باہمی رشتوں اور صدیوں پرانی ہم آہنگی کی یادیں تازہ ہو گئیں۔
سالانہ یاترا میں شرکت کے لیے وادی آنے والے کئی بے گھر پنڈت اپنے سابق ہمسایوں اور دوستوں سے ملے، جس سے یہ مذہبی اجتماع ملاقاتوں، یادوں اور جذباتی لمحات کا منظر پیش کرنے لگا۔
بڈگام کے رہائشی شبیر احمد ڈار نے بتایا کہ وہ اپنے بچپن کے دوست دیپک سے ملنے آئے تھے جو اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں۔انہوں نے کہا، ’’کئی برسوں بعد یہ ان کا پہلا دورۂ کشمیر ہے اور ہماری ملاقات پورے۳۶برس بعد ہوئی ہے۔‘‘
شبیر احمد ڈار نے بتایا کہ یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی کیونکہ دونوں نے اپنے بچپن اور کشمیری پنڈتوں کی ہجرت سے قبل کے کشمیر کی یادیں تازہ کیں۔
مندر احاطے میں اس نوعیت کی کئی ملاقاتیں دیکھنے کو ملیں جہاں دونوں برادریوں کے افراد نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی، پرانی یادیں تازہ کیں اور کشمیر میں امن، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی بحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
مسلمانوں اور کشمیری پنڈتوں کے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے مناظر نے زائرین اور دیگر حاضرین کی خصوصی توجہ حاصل کی اور کشمیر کی روایتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی جھلک پیش کی۔
دن بھر مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی مندر کا دورہ کیا اور زائرین سے ملاقات کی۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مندر پہنچ کر عقیدت مندوں کو مبارکباد پیش کی۔










