’گوشت کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ‘ ذخیرہ صرف دو سے چار دن تک کافی‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۲جون
مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی رابطہ کمیٹی نے پیر کے روز پنجاب کے راستے جموں و کشمیر آنے والی مویشی بردار گاڑیوں پر مبینہ طور پر بھاری فیس عائد کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو آئندہ چند دنوں میں پورے جموں و کشمیر میں گوشت کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے اراکین، جن میں معراج الدین گنی، خورشید احمد، عادل احمد اور خیر محمد شامل تھے، نے کہا کہ مسئلہ حل ہونے تک کوئی بھی مویشی بردار گاڑی مٹن منڈیوں میں داخل یا وہاں سے روانہ نہیں ہوگی۔
کمیٹی نے شادی بیاہ کی تقریبات منعقد کرنے والوں اور عام لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہڑتال کے پیش نظر اپنے انتظامات میں مناسب تبدیلی کریں۔
کمیٹی کے اراکین نے کہا ’’ہم عوام بالخصوص شادیوں اور دیگر تقریبات کے منتظمین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی منصوبہ بندی اسی حساب سے کریں کیونکہ جاری مسئلے کی وجہ سے گوشت کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے‘‘۔انہوں نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر میں گوشت کا موجودہ ذخیرہ صرف دو سے چار دن تک ہی مارکیٹ کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’دستیاب ذخیرہ صرف دو سے چار دن تک مارکیٹ کو سہارا دے سکتا ہے۔ اگر مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو صارفین کو قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘
تاجروں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کے راستے جموں و کشمیر آنے والی مویشی بردار گاڑیوں سے سمبو اور مادھوپور چیک پوسٹوں پر پندرہ ہزار سے بیس ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
کمیٹی نے کہا، ’’یہ چارجز غیر منصفانہ اور بلاجواز ہیں۔ جموں و کشمیر کے گوشت فروش پنجاب سے مویشی نہیں خریدتے۔ ہم ہریانہ، راجستھان اور دہلی جیسی ریاستوں سے جانور خریدتے ہیں، اس کے باوجود ہماری گاڑیوں سے بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔‘‘
تاجروں نے پنجاب کے مادھوپور علاقے میں مبینہ ’’غیر قانونی ٹیکس‘‘ کی وصولی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے مٹن ڈیلرز کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جموں و کشمیر میں مویشیوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اس طرح کے چارجز تاجروں پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں اور بالآخر گوشت کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر جموں و کشمیر کے عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔‘‘
کمیٹی کے اراکین نے پنجاب حکومت اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے مسئلے کے حل کی اپیل کی۔انہوں نے کہا، ’’ہم جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ اس معاملے کو اٹھائے اور تاجروں کو جلد از جلد راحت فراہم کرے۔‘‘
تاجروں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے بھی ذاتی طور پر مداخلت کرنے اور متعلقہ حکام کے ساتھ معاملہ اٹھانے کی اپیل کی تاکہ مبینہ وصولیوں کو ختم کیا جا سکے۔
رابطہ کمیٹی نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے تاجروں کے مفادات کے تحفظ اور مویشی و گوشت کی تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی متفقہ اپیل کی۔کمیٹی نے خبردار کیا کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا اور پنجاب کی چیک پوسٹوں پر مبینہ وصولیاں بند نہیں کی جاتیں، ہڑتال جاری رہے گی۔










