سرینگر میں منعقدہ’جلاوطنی سے عظمت تک‘ کانکلیو سے لیفٹیننٹ گورنر سنہا کا خطاب‘ کہا پنڈت اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑیں
’کشمیر نے اس برادری کی بے دخلی کا درد بھی دیکھا ہے اور آج اس کی بحالی اور نئے اعتماد کا منظر بھی دیکھ رہا ہے‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۳جون
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ کشمیری پنڈت اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑیں اور ایک تبدیل شدہ جموں و کشمیر کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بے دخلی سے عالمی سطح پر کامیابی تک کشمیری پنڈت برادری کا سفر حوصلے، استقامت اور عزم کی ایک شاندار مثال ہے۔
سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ ’گلوبل کشمیری پنڈت کانکلیو: جلاوطنی سے عظمت تک‘ سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اجتماع ایک تاریخی لمحے کی عکاسی کرتا ہے اور کشمیری پنڈت برادری کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی سرزمین سے اس کے مضبوط رشتے کا بھی مظہر ہے۔
سنہا نے کہا’’میں اپنے سامنے اس دھرتی کے بیٹے اور بیٹیاں دیکھ رہا ہوں۔ ہم سری نگر میں ایک تاریخی لمحے کے گواہ بن رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر نے اس برادری کی بے دخلی کا درد بھی دیکھا ہے اور آج اس کی بحالی اور نئے اعتماد کا منظر بھی دیکھ رہا ہے۔
۱۹۹۰ کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس برادری نے شدید مصائب اور بے دخلی کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود مشکلات کو اپنی شناخت نہیں بننے دیا۔ایل جی نے کہا ’’کشمیری پنڈت برادری نے۱۹۹۰کی دہائی میں بے پناہ تکالیف برداشت کیں۔ خاندان راتوں رات بے گھر ہو گئے، لیکن درد اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود انہوں نے مایوسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بے دخلی کے بعد برادری کے سامنے دو راستے تھے؛ ایک مایوسی اور شکست کا اور دوسرا تعمیر نو اور سماجی خدمت کا۔انہوں نے کہا’’مایوسی آسان راستہ تھا، لیکن آپ نے تعمیر نو، محنت اور خدمت کا راستہ چنا۔ آپ نے اپنی جدوجہد کو طاقت اور اپنے درد کو مقصد میں تبدیل کر دیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اس نے دہائیوں کی بے دخلی کے باوجود اپنی شناخت، ثقافت اور روایات کو محفوظ رکھا۔
سنہا کاکہنا تھا’’حقیقی فتح یہ ہے کہ آپ نے اپنے گاؤں، روایات اور شناخت کو مٹنے نہیں دیا بلکہ انہیں اپنی طاقت اور حوصلے کا ذریعہ بنا لیا‘‘۔
کانکلیو کو امید کا پیغام قرار دیتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ جو لوگ کبھی بے گھر ہوئے تھے، آج وہ اعتماد کے ساتھ اپنی سرزمین سے دوبارہ جڑنے کے لیے واپس آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’جو لوگ بے گھر اور بے آسرا ہوئے تھے، آج اعتماد کے ساتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔ یہ خود امید اور تجدید کا ایک طاقتور پیغام ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ شدید مشکلات کے باوجود کشمیری پنڈت برادری نے کبھی ہمدردی کی بھیک نہیں مانگی بلکہ تعلیم، انتظامیہ، فنون، ادب، سائنس اور عوامی خدمات کے میدانوں میں ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا’’آپ نے ہمدردی کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ مشکلات کے باوجود قوم کو اپنی خدمات سے مالا مال کیا‘‘۔
برادری کی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت ملک اور دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں جبکہ اپنی تہذیبی شناخت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا’’مجھے بے حد خوشی ہے کہ برادری کے افراد اپنی شناخت اور ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے قومی اور عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں‘‘۔
سنہا نے کہا کہ یہ کانکلیو جموں و کشمیر کے مستقبل اور بہتر سکیورٹی ماحول پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی بھی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا’’یہ اجتماع ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پرانے رشتے دوبارہ استوار کیے جائیں اور اپنے مشترکہ ورثے سے جڑا جائے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کانکلیو میں ہونے والی گفتگو محض علامتی نہیں بلکہ معاشی بااختیاری، سماجی شمولیت اور ثقافتی احیاء کے لیے ایک عملی روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا’’یہ مباحثے صرف گفتگو نہیں بلکہ معاشی ترقی، سماجی بحالی اور ایک متحرک برادری کی تعمیر کے لیے رہنما اصول ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بے گھر ہونے والی یہ برادری دوبارہ کبھی خود کو منظم نہیں کر سکے گی، لیکن اس کی استقامت نے ان تمام خدشات کو غلط ثابت کر دیا۔
کشمیری پنڈتوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ اس برادری نے ممتاز دانشور، سول سرونٹس، فنکار، مفکرین اور پالیسی ساز پیدا کیے جنہوں نے ملک کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا’’آپ نے ایسے مفکرین، دانشور اور وژن رکھنے والے افراد پیدا کیے جنہوں نے قومی سوچ اور پالیسی سازی پر گہرا اثر ڈالا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج ملک اور دنیا کشمیری پنڈت برادری کی کامیابیوں کا اعتراف کر رہی ہے اور اس کے ناقابلِ تسخیر جذبے کو سلام پیش کر رہی ہے۔کانکلیو کو ’’حوصلے اور عزم کی بے شمار داستانوں کا عظیم سنگم‘‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک نیا جموں و کشمیر ابھر رہا ہے اور اس کے مستقبل کی تشکیل میں کشمیری پنڈت برادری کا کردار نہایت اہم ہوگا۔انہوں نے کہا’’ایک نیا جموں و کشمیر وجود میں آیا ہے۔ اس کی طاقت، امنگیں اور مستقبل آپ کی شرکت اور خدمات سے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔
سنہا نے کشمیری پنڈت برادری کے افراد سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں تعلیمی، سماجی اور دیگر ادارے قائم کریں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا’’میں چاہتا ہوں کہ آپ ادارے قائم کریں، صلاحیتوں کو فروغ دیں اور جموں و کشمیر کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ کا تجربہ اور علم اس سرزمین کے مستقبل کے لیے بے حد قیمتی ہے‘‘۔
آخر میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ایک بامعنی زندگی کا اصل پیمانہ ذاتی کامیابی نہیں بلکہ وہ مثبت ورثہ ہے جو انسان اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ کر جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی نشاۃ ثانیہ اور ایک ترقی یافتہ قوم بننے کے سفر میں کشمیری پنڈتوں سمیت ہر برادری کی شرکت، قیادت اور خدمات اہم کردار ادا کریں گی۔










