قانون کو مزید سخت بنانے کی تجویز‘ پیپر لیک پر۱۰ سال قید اور۵۰ لاکھ روپے جرمانے کی گنجائش‘اپوزیشن کا مزید مشاورت کا مطالبہ
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۸ جولائی
ایک ہفتے سے جاری تعطل ختم ہونے کے بعد منگل کو لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل پر بحث کا آغاز ہوگیا۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ یہ بل طلبہ اور نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کی توثیق ہے۔
پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ترمیمی بل‘۲۰۲۶ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت نے۲۰۲۴میں امتحانات میں بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے قانون بنا کر ایک دیرینہ اور ادھورا کام مکمل کیا۔
سنگھ نے کہا، ’’پیپر لیک کے واقعات مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں والی کئی ریاستوں میں پیش آتے رہے ہیں… اینٹی پیپر لیک بل طلبہ اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کی تجدید ہے۔ اس ترمیم کا مقصد قانون کو مزید سخت بنانا ہے۔‘‘
آر ایس پی کے رکن پارلیمنٹ این کے پریم چندرن نے مطالبہ کیا کہ اس بل کو یکم دسمبر تک مختلف متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے لیے بھیجا جائے تاکہ اسے مزید مؤثر اور مفید بنایا جا سکے۔
طلبہ کے احتجاج اور نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر دھرمیندر پردھان کے وزارتِ تعلیم سے استعفے کے چند روز بعد حکومت نے پیر کے روز یہ بل لوک سبھا میں پیش کیا تھا۔ اس بل میں پیپر لیک کے جرم پر سزا کو مزید سخت کرتے ہوئے دس سال تک قید اور۵۰ لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔
جتیندر سنگھ نے یہ بل ایسے وقت میں ایوان میں پیش کیا جب اپوزیشن کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں۲۰ جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کر رہی تھی۔
تاہم پیر کے روز ہنگامہ آرائی کے باعث اس بل پر کوئی بحث نہیں ہو سکی تھی۔
اپوزیشن مانسون اجلاس کے۲۰ جولائی کو آغاز کے بعد سے مسلسل نیٹ پیپر لیک کا معاملہ اٹھا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیر تک، دو بلوں کی پیشی کے علاوہ، کوئی قانون سازی کا کام انجام نہیں دیا جا سکا۔
بحث میں حصہ لیتے ہو ئے کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی واڈرا نے طلبہ مظاہرین کے خلاف پیلیٹ گن کے استعمال پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ آخر اس کا حکم کس نے دیا تھا۔
پریانکا نے ہندی میں خطاب کرتے ہوئے کہا’’ان طلبہ پر آنسو گیس کے گولے داغنے، لاٹھیاں برسانے اور واٹر کینن استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ان طالبات کی تذلیل کرنے، ان کے کپڑے پھاڑنے اور انہیں بے رحمی سے مارنے کی کیا ضرورت تھی؟ ملک کے نوجوانوں پر پیلیٹ گن اور اے کے۴۷ استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا وہ دہشت گرد تھے؟‘‘
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ وزیر داخلہ کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔انہوں نے کہا’’میں اسپیکر صاحب کے ذریعے پوچھنا چاہتی ہوں کہ پیلیٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کیا یہ حکم وزیر اعظم نے دیا یا وزیر داخلہ نے؟ کیا وہ اس کا جواب دیں گے؟ صرف کانگریس نہیں بلکہ پورا ملک یہ سوال پوچھ رہا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ۲۰ جولائی کو نئی دہلی میں مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ جب پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے تو پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) نے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔
طلبہ، سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں، جن میں مظاہرین کو جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد ازاں یہ احتجاج دہلی سے نکل کر ملک کے دیگر شہروں تک بھی پھیل گیا۔
دھرمیندر پردھان کے وزارتِ تعلیم سے استعفے کے بعد ہفتے کے اختتام پر احتجاج ختم کر دیا گیا۔
پریانکا گاندھی نے مزید کہا’’اس ملک کے والدین، طلبہ، اساتذہ اور پورا ملک آج یہ سوال پوچھ رہا ہے اور اس کا جواب دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ اس ملک کے نوجوانوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟ آپ ان کی مضبوط آواز سے کیوں ڈرتے ہیں، اور آپ کو یہ آواز دبانے کا حق کس نے دیا؟‘‘
موصوفہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکلے، جنہوں نے مہاتما گاندھی کے عدم تشدد اور سچائی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پُرامن احتجاج کیا، گیت گائے اور مسکراتے ہوئے اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا۔
پریانکا نے حکمراں جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے وزارت سے استعفے کے صرف دو دن بعد دھرمیندر پردھان کا پارلیمنٹ میں استقبال کیا۔
انہوں نے کہا’’پرسوں وزیر تعلیم نے شرمناک حالات میں استعفیٰ دیا اور کل مکر دوار پر حکمراں جماعت کے ارکان ‘زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان کا اس طرح استقبال کیا گیا جیسے کوئی سپر اسٹار آیا ہو۔ یہ انتہائی افسوسناک منظر تھا‘‘۔










