محبوبہ کی ’بنتا ہے‘ کے بیان سے جذبات مجروح ہونے پر معذرت
ایجنسیاں
سرینگر؍۲۸ جولائی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو جنتر منتر پر کشمیر میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے متعلق اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے ریمارکس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معافی مانگتی ہیں۔
پارٹی کے۲۷ ویں یومِ تاسیس کے موقع پر یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا، ’’اگر میرے بیان سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے۲۳ جولائی کو جنتر منتر پہنچ کر کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کی حمایت کی تھی۔
دہلی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ نے ماضی میں کشمیر میں پیلٹ گنوں کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی صورتحال مختلف تھی کیونکہ وہاں سیکورٹی فورسز عسکریت پسندی کے خلاف لڑ رہی تھیں۔
محبوبہ مفتی نے منگل کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو طاقت استعمال کرنے کا ’’بہانہ مل جاتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا، ’’میں ’بہانہ بنتا ہے‘ کہنا چاہتی تھی، لیکن چونکہ میں بہت سے لوگوں سے بات کر رہی تھی، اس لیے میرے منہ سے صرف ’بنتا ہے‘ نکل گیا۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کی جماعت نیشنل کانفرنس نے محبوبہ مفتی کے اس بیان پر ان سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے پیر کو کہا تھا کہ محبوبہ مفتی کو جنتر منتر جانے کے بجائے ’’گھر میں رہنا چاہیے تھا‘‘ اور اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ اقتدار کے اعلیٰ منصب پر رہنے والے افراد کی جانب سے دیے گئے ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ بیانات عام لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے روک سکتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’جب ایک سابق وزیر اعلیٰ یہ کہتی ہیں کہ کشمیر میں عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال جائز ہے تو پھر لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت کون دے گا؟ بہتر ہوتا کہ وہ جنتر منتر نہ جاتیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’جب ہم سیاست دان مرکز کی جانب سے جبر اور طاقت کے استعمال کی حمایت کریں گے تو پھر اگر لوگ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے احتجاج کرنا چاہیں تو ہماری حمایت کون کرے گا؟ لوگ باہر نہیں آئیں گے کیونکہ محبوبہ جی کہہ چکی ہیں کہ ’یہ تو بنتا ہے‘۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محبوبہ مفتی جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس کے احتجاج میں شریک ہونے جنتر منتر نہیں گئیں بلکہ طلبہ کے احتجاج میں شرکت کے لیے وہاں پہنچیں۔انہوں نے کہا، ’’وہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر جنتر منتر نہیں گئیں، لیکن وہاں جا کر انہوں نے عسکریت پسندی کی آڑ میں اختیارات اور طاقت کے غلط استعمال کو جائز قرار دیا۔‘‘
عمر عبداللہ نے سوال اٹھایا،’’وہ اس کی کس طرح توجیہ پیش کر سکتی ہیں؟ کیا عسکریت پسندی کی وجہ سے بچوں کو انصاف نہ ملے؟ کیا عسکریت پسندی کے نام پر پاسپورٹ جاری نہ کیے جائیں؟ کیا قوانین پر عمل درآمد نہ ہو؟ میں نہیں سمجھ سکا کہ اسے کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘










