ہمیں حکم کفر نہ دیجئے گا کہ ہم ایسی ویسی کوئی بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ جسارت ۔ وہ کیا ہے کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘وزیر اعلی عمرعبداللہ کے والد گرامی ‘قائد ثانی ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب کاکہنا ہےکہ صرف اللہ میاں ہی جانتے ہیں کہ…….کہ جموںکشمیر کی خصوصی پوزیشن کب بحال ہو گی اور اسی ایک بات پر ہمارا قائد ثانی سے اختلاف ہے اور اس لئے ہے کہ ریاست کی خصوصی حیثیت اپنے وزیر اعظم مودی جی اور ان کے امیت بھائی شاہ نے منسوخ کی ‘ ختم کی ‘ اسے زمین بوس کیا اور ایک قائد ثانی ہیں جن کا جاننا اور ماننا ہے کہ اللہ میاں جانتے ہیں کہ خصوصی پوزیشن کب بحال ہو گی ۔ نہیں ڈاکٹر صاحب ! اس میں بے چارے اللہ میاں کو نہ لائیں کہ اللہ میاں نے نہیں بلکہ مودی جی نے اس خصوصی پوزیشن کو ختم کیا ۔کیا یہ خصوصی پوزیشن کبھی بحال ہو گی ‘ یوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات مودی جی اور امیت بھائی شاہ ہی جانتے ہیں …….لیکن ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ وہ بھی یہ نہیںجانتے ہوں گے اور اس لئے نہیں جانتے ہوں کہ ان دونوں کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ……. جموںکشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ اگر ارادہ ہوتا تو پھر وہ اسے ختم ہی کیوں کرتے ۔ اس لئے ڈاکٹر صاحب ‘اللہ میاں کو بھی یہ معلوم نہیں ہو گا کہ خصوصی پوزیشن کب بحال ہو گی کہ ان کے پاس اس سے کئی اہم معاملات ہوں گے ۔خصوصی پوزیشن تو دور کی بات ہے ‘ کوئی یہ تک نہیں جانتا ہوگا کہ جموںکشمیر کا ریاستی درجہ کب بحال ہو گا …….وہ بھی نہیں جانتے ہوں گے جنہوں نے جموںکشمیر کے ریاستی درجے کو ختم کیا تھا ۔وہ اس لئے نہیں جانتے ہوں گے کیونکہ خصوصی پوزیشن کے برعکس مودی جی اور ان کے امیت بھائی شاہ کا ریاستی درجہ ……. جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا ارادہ ہے اور سو فیصد ہے ‘ اس میں کوئی شک اور نہ شبہ ہے …….لیکن ایسا کب ہو گا ‘ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ اس کا علم ان دونوں کے پاس بھی نہیں ہے اور اس لئے نہیں ہے کہ مودی جی اور ان کے امیت بھائی شاہ نے ابھی اس پر سوچ بچار نہیں کیا ہے ……. سو فیصد نہیں کیا ہے ۔اور یہ بات اللہ میاں ‘ معاف کیجئے ڈاکٹر صاحب اور آپ کے گورے گورے بانکے چھورے بھی جانتے ہیں …….مانتے ہیں یا نہیں لیکن جانتے ہیں ۔ ہے نا؟




