پیر, جون 15, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

سیاحت اورسرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-13
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جموں و کشمیر کی معیشت میں سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وادی کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ہوٹلوں، ہاؤس بوٹس، ٹرانسپورٹ، دستکاری، ریستورانوں اور دیگر کاروباری شعبوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ ایسے وقت میں جب کشمیر کی سیاحت ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے، سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش نے کاروباری طبقے اور سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یکم جولائی سے۳۰ ستمبر۲۰۲۶تک ہر پیر اور منگل کو رن وے کی مرمت کے باعث ہوائی اڈے کی سرگرمیاں محدود رہیں گی، جبکہ یکم اکتوبر سے۱۶؍ اکتوبر تک مکمل بندش کی تجویز دی گئی ہے۔ اگرچہ رن وے کی مرمت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ضروری ہے، تاہم اس کام کے لیے منتخب کیا گیا وقت کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ اکتوبر کشمیر میں سیاحت کے عروج کا موسم سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ

پانی، دہشت گردی اور قومی سلامتی

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں بڑھتا بحران:

اکتوبر کا مہینہ وادی کشمیر کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران چنار کے درختوں کے پتے سنہری رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پوری وادی ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موسم کو ’گولڈن کشمیر‘ کہا جاتا ہے۔ مغربی بنگال، مہاراشٹر، گجرات اور ملک کی دیگر ریاستوں سے ہزاروں سیاح خاص طور پر اس موسم کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ درگا پوجا کی تعطیلات کے دوران بنگال سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے اور یہی عرصہ مقامی سیاحتی صنعت کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔

سرینگر ہوائی اڈہ کشمیر کا سب سے اہم فضائی رابطہ ہے۔ چونکہ وادی کا زمینی راستہ اکثر موسمی حالات، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر رکاوٹوں سے متاثر ہوتا رہتا ہے، اس لیے فضائی سفر ہی سیاحوں کے لیے سب سے محفوظ اور تیز ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اکتوبر میں ہوائی اڈہ مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے تو ہزاروں ممکنہ سیاح اپنے سفر کے منصوبے منسوخ کر سکتے ہیں یا متبادل سیاحتی مقامات کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر کشمیر کی سیاحت پر پڑے گا۔

سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندان اس صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔ ہوٹل مالکان، ہاؤس بوٹ چلانے والے، ٹیکسی ڈرائیور، گائیڈز، ریستوران مالکان، شال اور قالین فروش، خشک میوہ جات کے تاجر اور دستکار سبھی سیاحوں کی آمد سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ اگر سیاحوں کی تعداد میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری مقامی معیشت متاثر ہوگی۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کشمیر کی معیشت ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔ حالیہ برسوں میں کووڈ۱۹وبا اور پھر گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں ہو ئے دہشت گردانہ حملے کے باعث سیاحتی صنعت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ بڑی محنت اور حکومتی کوششوں کے بعد سیاحت نے دوبارہ رفتار پکڑی ہے۔ ایسے میں ہوائی اڈے کی طویل بندش سے کاروباری برادری کو ایک بار پھر مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سیاحت کے علاوہ فضائی رابطہ طبی ایمرجنسیوں کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ کشمیر کے متعدد مریض علاج کی غرض سے دہلی، چندی گڑھ، ممبئی اور دیگر شہروں کا سفر کرتے ہیں۔ کئی مواقع پر فضائی سفر ہی ان کے لیے واحد اور تیز ترین آپشن ہوتا ہے۔ اگر ہوائی اڈہ بند ہو جاتا ہے تو مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی ہمدردی کے نقطۂ نظر سے بھی اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہوائی اڈے کی بندش کا ایک اور اہم پہلو کارگو سروسز سے متعلق ہے۔ کشمیر کی باغبانی کی صنعت، خصوصاً سیب، چیری اور دیگر اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کی بیرونِ ریاست ترسیل میں فضائی کارگو اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح دستکاری کی مصنوعات اور دیگر قیمتی سامان بھی فضائی راستے سے مختلف منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اگر پروازیں معطل ہوتی ہیں تو کارگو خدمات بھی متاثر ہوں گی جس سے تاجروں اور باغبانوں کو مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے پہلے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور بعد ازاں مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو سے ملاقات کر کے اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ حکومت متبادل انتظامات تلاش کر رہی ہے تاکہ فضائی رابطہ مکمل طور پر منقطع نہ ہو۔ ان کی جانب سے اونتی پورہ کے فضائی اڈے کو عارضی طور پر شہری پروازوں کے لیے استعمال کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جو ایک قابلِ غور آپشن ہو سکتا ہے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ مرمتی کام کی اہمیت اور عوامی مفاد کے درمیان توازن قائم کریں۔ اگر مکمل بندش ناگزیر ہو تو اس کی مدت کم سے کم رکھی جائے۔ مزید برآں، ایسے متبادل انتظامات یقینی بنائے جائیں جن سے کم از کم بنیادی فضائی خدمات جاری رہ سکیں۔ ماضی میں۱۹۹۸؍اور۲۰۱۰ کے دوران بھی اسی نوعیت کی صورتحال میں محدود پروازوں کا انتظام کیا گیا تھا، لہٰذا اس بار بھی ایسی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔

یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ سیاحت پر منحصر ہے۔ سیاح صرف ہوٹلوں میں قیام نہیں کرتے بلکہ ان کے اخراجات مقامی کاروبار کے تقریباً ہر شعبے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اگر فضائی رابطہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات وادی کے دور دراز علاقوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ سرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش کے فیصلے پر تمام پہلوؤں سے غور کیا جائے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی یقیناً اہم ہے، لیکن اس عمل میں سیاحت، تجارت، طبی ضروریات اور عوامی سہولت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر اس وقت معاشی ترقی اور سیاحتی فروغ کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ رن وے کی مرمت کے کام کو اس انداز میں انجام دیا جائے کہ وادی کی سیاحت اور معیشت کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ بصورت دیگر اکتوبر کی یہ بندش ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور کشمیر کی ترقی کی رفتار پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

امرناتھ یاترا:نا قابل تسخیر سکیورٹی انتظامات کی ہدایت

Next Post

یہ تواللہ میاں بھی نہیں !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پانی، دہشت گردی اور قومی سلامتی

2026-06-14
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں بڑھتا بحران:

2026-06-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

زوجیلا سرنگ میں تاریخی بریک تھرو

2026-06-10
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عوام انڈیا بلاک کو کیوں سنجیدہ لیں؟

2026-06-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کیا ہمارے نجی اسکول بہتر انسان بھی تیار کر رہے ہیں؟

2026-06-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عالمی یوم ماحولیات:کشمیر کہاں کھڑا ہے ؟

2026-06-06
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

یہ تواللہ میاں بھی نہیں !

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.