مرکزی کابینہ کی وزیر اعظم کو مبارکباد‘ کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا‘ صدر مرمو اورعالمی رہنماؤں کی بھی مبارکباد
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۰جون
مرکزی کابینہ نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھارت کے سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے والے منتخب وزیر اعظم بننے پر مبارکباد پیش کی۔
کابینہ کے ارکان نے اس موقع پر وزیر اعظم مودی کے اعزاز میں کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیر اعظم مودی نے بدھ کے روز بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑتے ہوئے مسلسل منتخب رہنے والے سب سے طویل مدت کے وزیر اعظم کا اعزاز حاصل کیا۔
مودی نے۲۶ مئی۲۰۱۴کو بھاری اکثریت کے ساتھ پہلی بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔۲۰۱۹میں وہ مزید بڑے مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ منتخب ہوئے اور ان کی دوسری مدت۳۰مئی۲۰۱۹سے شروع ہوئی۔ ان کی تیسری مسلسل مدت۹جون۲۰۲۴کو شروع ہوئی۔
اس دوران صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کے مسلسل سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیر اعظم رہنے کا منفرد اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ تاریخی موقع عوام کی جانب سے ان کی قیادت پر کیے گئے مسلسل اعتماد اور بھروسے کا مظہر ہے۔
صدر مرمو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا’’ملک کے مسلسل سب سے طویل مدت تک منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے منفرد اعزاز پر وزیر اعظم نریندر مودی جی کو دلی مبارکباد۔ یہ تاریخی سنگِ میل بھارتی عوام کی جانب سے آپ کی قیادت پر کیے گئے پائیدار اعتماد اور یقین کا ثبوت ہے‘‘۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا دورِ حکومت گورننس، معاشی استحکام اور سماجی تبدیلی کے شعبوں میں دور رس پیش رفت سے عبارت رہا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی، جنہوں نے۲۶ مئی۲۰۱۴کو پہلی بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا، اب بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کا۴۳۹۸مسلسل دنوں کا ریکارڈ عبور کرکے ملک کے سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے والے منتخب وزیر اعظم بن گئے ہیں۔
صدر مرمو نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں نے ترقی کے ثمرات کو معاشرے کے آخری فرد تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو انتودیہ کے اصولوں سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر ہند نے کہا’’آپ کی قیادت میں شروع کی گئی متعدد اسکیموں میں سے پی ایم جن من اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان میرے دل کے بہت قریب ہیں‘‘۔
مرمو نے وزیر اعظم مودی کے سیاسی سفر کو جمہوری اقدار کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا سفر بھارت کی مضبوط جمہوری روایات پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم کی صحت اور درازیٔ عمر کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا’’میں آپ کی اچھی صحت اور طویل عمر کے لیے دعا گو ہوں تاکہ آپ قوم کی خدمت جاری رکھ سکیں اور بھارت کو آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت کے وژن کی جانب رہنمائی فراہم کرتے رہیں۔‘‘
اس تاریخی سنگِ میل پر دنیا بھر کے کئی رہنماؤں نے وزیر اعظم مودی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی قیادت، حکمرانی اور عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو سراہا۔
سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے۸ جون کو بھیجے گئے اپنے تہنیتی خط میں لکھا کہ یہ کامیابی صرف طویل مدت تک اقتدار میں رہنے کا مظہر نہیں بلکہ اس اعتماد اور بھروسے کی علامت بھی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے عوام نے بار بار آپ کی قیادت پر ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے بھارت اور سری لنکا کے مضبوط تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم مودی اب تک چار مرتبہ سری لنکا کا دورہ کر چکے ہیں اور اپریل۲۰۲۵ میں انہیں سری لنکا کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز’متر وبھوشن‘ سے نوازا گیا تھا۔
پاپوا نیو گنی کے وزیر اعظم جیمز ماراپے نے ایک ویڈیو پیغام میں مودی کو’’قیادت کی مثال اور رول ماڈل‘ قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر۲۰ کروڑ سے زائد بھارتیوں کو غربت سے نکالنے کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے مودی کی پالیسیوں کو سراہا۔
انہوں نے مئی۲۰۲۳میں مودی کے پاپوا نیو گنی کے تاریخی دورے کا بھی ذکر کیا، جو کسی بھارتی وزیر اعظم کا اس ملک کا پہلا دورہ تھا۔
ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی وزیر اعظم کملہ پرساد بسیسر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت عالمی معاملات میں ایک مؤثر اور بااثر آواز بن کر ابھرا ہے۔
انہوں نے مودی کے ایک عام پس منظر سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے رہنما بننے کے سفر کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے جولائی۲۰۲۵میں مودی کے ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کے دورے کا بھی حوالہ دیا، جو۲۶برس بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دو طرفہ دورہ تھا۔
عالمی رہنماؤں کے تہنیتی پیغامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے عالمی سیاست اور معیشت میں اپنا مقام مضبوط کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت نہ صرف دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بنا بلکہ عالمی جنوب(گلوبل ساؤتھ ) کی ایک مضبوط آواز کے طور پر بھی ابھرا ہے۔
اس تاریخی سنگِ میل کے بعد اب توجہ وزیر اعظم مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے باقی ماندہ عرصے اور ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کی جانب مرکوز ہو گئی ہے۔










