سرینگر میں اتوار کے روز لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا کی قیادت میں منعقد ہونے والی منشیات مخالف ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ معاشرہ اس خطرناک رجحان کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ یہ منظر نہ صرف حوصلہ افزا تھا بلکہ اس حقیقت کا عکاس بھی کہ منشیات کا مسئلہ اب کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے سماج کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم اس سوال سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ کیا صرف ایسی ریلیاں اور حکومتی اقدامات اس مسئلے کا مستقل حل فراہم کر سکتے ہیں، یا اس کے لیے معاشرتی سطح پر ایک وسیع اور پائیدار بیداری کی ضرورت ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اور پولیس منشیات کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے، منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی، اور عوامی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف مہمات جاری ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی بڑی گرفتاریاں اور ضبطیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ ریاستی ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ منشیات کا پھیلاؤ مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حدود میں حل ہونے والا نہیں۔
منشیات کا پھیلاؤ دراصل ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے جس کی جڑیں سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل میں پیوست ہوتی ہیں۔ نوجوان نسل کا ایک حصہ جب بے روزگاری، ذہنی دباؤ، تعلیمی دباؤ یا سماجی تنہائی کا شکار ہوتا ہے تو وہ آسانی سے نشے جیسے راستوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر صرف گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں پر انحصار کیا جائے تو مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی یا قانون کی جنگ نہیں بلکہ ایک سماجی جدوجہد ہے۔
سرینگر کی حالیہ ریلی کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ریلی اس بات کی علامت ہے کہ عوام میں کسی حد تک شعور بیدار ہو رہا ہے، لیکن اس شعور کو وقتی جوش تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل رویے میں تبدیل کرنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی سماجی برائی کے خلاف کامیابی صرف اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب پورا معاشرہ اس کے خلاف متحد ہو جائے۔ اگر عوام اس مسئلے کو اپنی ذاتی ذمہ داری نہ سمجھیں تو سرکاری اقدامات محض جزوی نتائج ہی دے سکتے ہیں۔
یہاں خاندان کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں، ان کے دوستوں اور ان کی ذہنی کیفیت پر گہری نظر رکھیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نشے کی لت کا آغاز خاموشی سے ہوتا ہے اور جب تک اس کا احساس ہوتا ہے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اساتذہ کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ تعلیمی ادارے صرف علم فراہم کرنے کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی کے ادارے بھی ہیں۔ اگر اسکول اور کالج سطح پر منشیات کے نقصانات کے بارے میں موثر آگاہی فراہم کی جائے تو نوجوانوں کو اس راستے سے دور رکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح سماجی اور مذہبی اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ مساجد، کمیونٹی سینٹرز اور مقامی تنظیمیں اگر اس مسئلے پر کھل کر بات کریں اور لوگوں میں شعور بیدار کریں تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ میڈیا اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے اجاگر کرے اور محض سنسنی خیزی کے بجائے اصلاحی بیانیہ تشکیل دے تو عوامی رائے کو مثبت سمت دی جا سکتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو بحالی (rehabilitation) کا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نشے کے عادی افراد کو محض مجرم سمجھ کر سزا دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ انہیں مناسب علاج اور بحالی کے مواقع فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر بحالی کے مراکز مؤثر اور قابلِ رسائی ہوں تو بہت سے نوجوان دوبارہ ایک صحت مند زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں، لیکن ان کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہر متاثرہ فرد تک یہ سہولت پہنچ سکے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشرے میں کئی مرتبہ منشیات کے مسئلے کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا اسے ایک محدود مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی لاپرواہی اس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھاتی ہے۔ جب تک ہر فرد یہ احساس نہیں کرے گا کہ یہ مسئلہ اس کے اپنے گھر، اس کے اپنے محلے اور اس کے اپنے بچوں سے جڑا ہوا ہے، تب تک اس کے خلاف مؤثر جدوجہد ممکن نہیں۔
سرینگر کی ریلی نے ایک مثبت آغاز ضرور فراہم کیا ہے، لیکن اس آغاز کو ایک مستقل تحریک میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت وقتی نعروں یا جذباتی اظہار کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ حکومت اور پولیس اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، مگر ان کی کوششیں اسی وقت کامیاب ہوں گی جب عوام بھی اسی عزم اور سنجیدگی کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوں گے۔
آخرکار، منشیات کے خلاف جنگ کوئی ایک دن یا ایک مہم کی جنگ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کے لیے اجتماعی شعور، ذمہ داری اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ اگر معاشرہ بیدار ہو جائے اور ہر فرد اپنا کردار ادا کرے تو یہ ناسور جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، تمام تر سرکاری کوششوں کے باوجود یہ مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔
یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے تسلیم کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں کہ منشیات کے خلاف کامیابی کا دار و مدار صرف حکومت پر نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری پر ہے۔ جب عوام خود اس جنگ کو اپنی جنگ بنا لیں گے، تب ہی اس کا فیصلہ کن خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔



