’اس سہولت سے بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مدد دے گی‘
بڈگام؍۲۴؍اپریل
مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے جمعہ کے روز کہا کہ جو ملک اپنے مزدوروں کے وقار کو اہمیت دیتا ہے وہ ترقی کی راہ میں ناقابلِ تسخیر ہوتا ہے، اس لیے مزدوروں کی فلاح و بہبود کو حکمرانی کے مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔
مانڈویہ، جو محنت و روزگار اور امورِ نوجوانان و کھیل کے مرکزی وزیر ہیں، نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے اومپورہ علاقے میں۳۰ بستروں پر مشتمل ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) ہسپتال کا افتتاح کیا۔
نیا قائم کیا گیا یہ ہسپتال کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا ای ایس آئی سی ہسپتال ہے، جو خطے میں مزدوروں کی فلاحی خدمات کے فروغ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مانڈویہ نے کہا کہ ’’جو ملک اپنے مزدوروں کے وقار کو اہمیت دیتا ہے وہ ترقی کی راہ میں ناقابلِ تسخیر ہوتا ہے‘‘۔
مانڈویہ نے کہا کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سماجی تحفظ کی کوریج۲۰۱۵میں۱۹فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۵میں۶۴ء۳فیصد ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سمت میں ملک کی کوششوں کو۲۰۲۵میں انٹرنیشنل سوشل سکیورٹی ایسوسی ایشن نے بھی تسلیم کیا ہے۔
مرکزی وزیر نے گزشتہ سال نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کے تحت مزدوروں کو کئی دیرینہ تحفظات فراہم کیے گئے ہیں، جن میں سالانہ طبی معائنہ، تقرری نامے کا لازمی اجرا، اور کم از کم اجرت کی ضمانت شامل ہے۔
مانڈویہ نے زور دیا کہ ای ایس آئی سی ہسپتالوں کے ذریعے سالانہ صحت کی جانچ کی سہولت بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مدد دے گی، مزدوروں کے لیے احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے گی اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنائے گی۔
مرکزی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ای ایس آئی سی کا آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے ساتھ انضمام مستفیدین کے لیے منظور شدہ ہسپتالوں میں کیش لیس علاج تک رسائی کو مزید وسعت دیتا ہے۔
۱۶۵ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس ہسپتال کو مستقبل میں۱۰۰بستروں تک وسعت دینے کی گنجائش کے ساتھ قائم کیا گیا ہے اور اس سے براہِ راست۵۰ ہزار سے زائد مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
گزشتہ سال نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کے انقلابی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ان اصلاحات نے بھارت کے لیبر نظام کو جدید، زیادہ کارکن مرکوز، شفاف اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بنا دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ نئے لیبر کوڈز کارکنوں کے لیے کئی دیرینہ تحفظات کی ضمانت دیتے ہیں، جن میں سالانہ صحت کے معائنے، ، لازمی تقرری کے خطوط، اور کم از کم اجرت شامل ہیں۔ ای ایس آئی سی اسپتالوں کے ذریعے سالانہ صحت کے معائنے کی شق بیماریوں کی ابتدائی تشخیص کو ممکن بنائے گی، کارکنوں کے لیے احتیاطی صحت کی سہولیات کو یقینی بنائے گی اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنائے گی۔‘‘
وزیر نے کہا کہ۱۹۵۲میں اپنے قیام کے بعد سے ای ایس آئی سی ملک میں کارکنوں کی فلاح و بہبود کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک بن چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج یہ اسکیم بھارت بھر میں 3.84 کروڑ بیمہ شدہ افراد اور تقریباً۱۵کروڑ مستفید افراد کو صحت کی سہولیات اور سماجی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ای ایس آئی سی کا آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے ساتھ انضمام مستفید افراد کے لیے پینل میں شامل اسپتالوں میں کیش لیس علاج تک رسائی کو مزید وسعت دے رہا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے اومپورا میں اسپتال کی تعمیر میں حصہ لینے والے کارکنوں کو اعزاز سے نوازا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے مرکزی زیرِ انتظام علاقے کے بیمہ شدہ افراد کو مختلف سماجی تحفظ کے فوائد بھی فراہم کیے۔
یہ اسپتال۱۶۵ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور اسے۱۰۰ بستروں تک توسیع دینے کی گنجائش کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اسپتال براہِ راست۵۰ہزار سے زائد کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کو فائدہ پہنچائے گا۔جموں و کشمیر میں ای ایس آئی اسکیم کا آغاز ۱۶؍اکتوبر۱۹۸۹کو ہوا تھا، جس کے تحت اس وقت جموں، کٹھوا اور سری نگر میں تقریباً۷ہزار کارکنان کو کوریج حاصل تھی۔اس وقت ای ایس آئی اسکیم جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں نافذ ہے اور تقریباًایک لاکھ ۸۳ہزار۱۱۹ بیمہ شدہ افراد اور تقریباً۷لاکھ مستفید افراد کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اس نظام کا انتظام جموں میں واقع ای ایس آئی سی کے علاقائی دفتر اور جموں و کشمیر ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس سوسائٹی (جے کے ای ایس آئی ایس) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
افتتاحی تقریب میں وزارتِ محنت و روزگار، ای ایس آئی سی، مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔










