’چھپائی گئی منشیات کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی ‘/جموں میں دو مبینہ منشیات فروشوں کے مکانات مسمار
سرینگر؍۲۴؍اپریل
سرینگر پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت شہر کے مختلف مقامات پر نارکوٹک ڈاگ اسکواڈ تعینات کیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے جمعہ کے روز یہ بات بتائی۔
انہوں نے کہا کہ نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت اس خصوصی مہم کے دوران تربیت یافتہ سنفر ڈاگز کو اہم چیک پوائنٹس پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ چھپائی گئی منشیات کا سراغ لگایا جا سکے اور منشیات فروشوں کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کیا جا سکے۔
افسر کے مطابق اعلیٰ تربیت یافتہ کتوں کی تعیناتی سے موقع پر ہی منشیات کی نشاندہی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور زمینی سطح پر قانون نافذ کرنے کے عمل کو مزید مضبوطی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیشگی اقدام سرینگر پولیس کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد منشیات کی سپلائی نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف سخت روک قائم کرنا ہے۔
پولیس نے عوام کو بیدار کرنے اور منشیات سے پاک معاشرے کے لیے اجتماعی عزم کو مضبوط بنانے کے لیے آگاہی مہمات بھی جاری رکھی ہیں۔ (ایجنسیاں)
دریں سرینگرضلع انتظامیہ نے جمعہ کے روز جموں شہر کے مضافاتی علاقوں میں دو مبینہ منشیات فروشوں کی رہائشی جائیدادیں منہدم کر دیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ اور تجارت میں ملوث افراد سے منسلک اثاثوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بھاری پولیس نفری کے ہمراہ بلڈوزر میر ان صاحب کے اندرا نگر کالونی میں داخل ہوئے اور علاقے میں دو منشیات فروشوں کے مکانات کو مسمار کر دیا۔
حکام کے مطابق ان دونوں کے خلاف نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں اور یہ کارروائی ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان’ کے تحت انجام دی گئی۔
مسماری کی اس کارروائی کے دوران سب ڈویژنل مجسٹریٹ آر ایس پورہ انورادھا ٹھاکر اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر گر میت سنگھ موقع پر موجود تھے۔
اسی نوعیت کی ایک اور کارروائی میں جمعرات کے روز جموں شہر کے راجیو نگر علاقے میں تین مبینہ منشیات فروشوں کی رہائشی جائیدادیں منہدم کی گئی تھیں۔
۱۸ ؍اپریل کو بھی انتظامیہ اور پولیس نے منشیات کے کاروبار سے منسلک اثاثوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران شہر کے بیلی چرانہ علاقے میں این ڈی پی ایس کے ملزمان کی دو رہائشی جائیدادیں مسمار کی تھیں۔










