پیر, جولائی 13, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

 لشکرِ طیبہ کے گرفتار پانچ  افراد۱۰ روزہ پولیس ریمانڈ پر

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-09
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
 لشکرِ طیبہ کے گرفتار پانچ   افراد۱۰ روزہ پولیس ریمانڈ پر
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

 

سرینگر؍۸؍اپریل

متعلقہ

ریاستی درجہ کی بحالی :واضح مدت کی مانگ

نیشنل کانفرنس کو اب میری ضرورت نہیں رہی:روح اللہ

ایک مقامی عدالت نے بدھ کے روز کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ پانچ افراد‘ دو پاکستانی دہشت گرد اور ان کے تین مقامی معاونین کو۱۰دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا، ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا۔

یہ گرفتاریاں ایک’گہری جڑوں‘ والے بین الریاستی لشکرِ طیبہ نیٹ ورک کے انکشاف کے بعد عمل میں آئیں، جس کی قیادت پاکستانی دہشت گرد عبداللہ عرف ابو حریرہ کر رہا تھا، جو گزشتہ۱۶برسوں سے مفرور تھا اور یونین ٹیریٹری سے باہر بھی اپنے ٹھکانے قائم کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

ابو حریرہ کے ساتھ ایک اور پاکستانی دہشت گرد عثمان عرف خبیب اور سری نگر کے تین رہائشی ‘ محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ اور غلام محمد میر عرف ماما ‘ کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پانچوں کو سری نگر کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں۱۰ دن کے لیے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ تفتیش جاری ہے اور مزید ساتھیوں، مالی معاونین، سہولت کاروں، محفوظ ٹھکانوں اور بین الریاستی روابط کی نشاندہی کے لیے کئی مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

لشکرِ طیبہ کے اس نیٹ ورک کا خاتمہ ایک بڑی کارروائی کے دوران کیا گیا، جو۳۱ مارچ سے شروع ہوئی تھی اور جس کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات کر رہے تھے، جو سری نگر میں قیام پذیر رہے۔ اس کارروائی میں تنظیم کے مالیاتی نظام اور فنڈنگ کے طریقہ کار کو بھی بے نقاب کیا گیا۔

حکام کے مطابق دہشت گردوں نے جعلی دستاویزات اور فرضی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ دیگر کئی ریاستوں میں بھی اپنا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران سری نگر پولیس، دیگر ریاستوں کی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر، راجستھان اور ہریانہ میں۱۹مقامات پر چھاپے مارے، جن کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، جس میں چار اے کے رائفلیں، پستول، ہینڈ گرینیڈ اور الیکٹرانک آلات شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ دونوں پاکستانی دہشت گردوں کو ’اے پلس‘زمرے میں رکھا گیا ہے اور انہوں نے تقریباً۱۶ سال قبل بھارت میں دراندازی کی تھی۔ وہ وادی کے مختلف اضلاع میں سرگرم رہے اور وقتاً فوقتاً تقریباً۴۰ غیر ملکی دہشت گردوں کی کمان سنبھالتے رہے، جن میں سے بیشتر کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

تحقیقات کے دوران عبداللہ اور عثمان سے دیگر ریاستوں کے پتوں پر مشتمل جعلی دستاویزات بھی برآمد ہوئیں، جو وادی سے باہر نقل و حرکت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک غیر ملکی دہشت گرد جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بنائے گئے درست پاسپورٹ کے ذریعے ملک سے باہر بھی سفر کرنے میں کامیاب رہا۔

یہ نیٹ ورک۳۱ مارچ کو اس وقت بے نقاب ہونا شروع ہوا جب سری نگر کے علاقے پانڈچھ سے نقیب بھٹ کو ایک پستول اور دیگر قابلِ اعتراض مواد کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔

پوچھ گچھ کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ وہ لشکرِ طیبہ سے وابستہ ہے اور اسلحہ و گولہ بارود ایک اور ساتھی عادل رشید سے حاصل کرتا تھا، جبکہ وہ غیر ملکی دہشت گردوں کو مدد بھی فراہم کرتا تھا۔ اس کی نشاندہی پر پولیس میر اور عادل رشید بھٹ تک پہنچی، جو سری نگر میں سرگرم ساتھی تھے۔

تحقیقات کے دوران ملزمان کے انکشافات کی بنیاد پر سری نگر کے مضافاتی جنگلاتی علاقوں میں کئی خفیہ ٹھکانوں کا بھی پتہ لگایا گیا۔

یہ کارروائی نومبر۲۰۲۵ میں’الفلاح آپریشن‘ کے چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس میں سری نگر پولیس نے فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی سے جڑے ایک ’وائٹ کالر‘ دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا، جس کا تعلق۱۰نومبر۲۰۲۵ کو لال قلعہ کے باہر ہونے والے دھماکے سے تھا، جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کیس میں ملزمان میں الفلاح یونیورسٹی کے ڈاکٹر عمر النبی بھی شامل تھے، جو دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی چلا رہے تھے۔ حکام کے مطابق وہ۲۰۱۶؍اور۲۰۱۸ میں بھی دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کی ناکام کوششیں کر چکے تھے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دہشت گردوں کی معاونت  کےا لزام میں مزید دو سرکاری ملازم برطرف

Next Post

۲۴گھنٹے میں چوری کا کیس  حل کیا‘ مسروقہ سامان برآمد

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

ریاستی درجہ کی بحالی :واضح مدت کی مانگ
اہم ترین

ریاستی درجہ کی بحالی :واضح مدت کی مانگ

2026-07-12
نیشنل کانفرنس کو اب میری ضرورت نہیں رہی:روح اللہ
اہم ترین

نیشنل کانفرنس کو اب میری ضرورت نہیں رہی:روح اللہ

2026-07-12
 جموں و کشمیر میں آئندہ دو سے تین روز شدید بارشوں کا امکان
اہم ترین

 جموں و کشمیر میں آئندہ دو سے تین روز شدید بارشوں کا امکان

2026-07-12
بی جے پی کا عمر عبداللہ کے الزامات مسترد، ثبوت پیش کرنے یا غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ
اہم ترین

بی جے پی کا عمر عبداللہ کے الزامات مسترد، ثبوت پیش کرنے یا غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ

2026-07-12
 کشمیر میں تعلیمی مواد کی جانچ کا دائرہ اسکولوں سے بڑھا کر کالجوں اور یونیورسٹیوں تک وسیع
اہم ترین

 کشمیر میں تعلیمی مواد کی جانچ کا دائرہ اسکولوں سے بڑھا کر کالجوں اور یونیورسٹیوں تک وسیع

2026-07-12
اے سی بی کی کارروائی کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے چار اہلکار معطل
اہم ترین

ڈھائی سال سے غیر حاضر کٹھوعہ میں  پولیس کانسٹیبل ملازمت سے برطرف

2026-07-12
جموں و کشمیر میں بڑا ردوبدل‘۸۲پولیس افسران تبدیل
اہم ترین

ادھم پور میں مبینہ منشیات فروش نظر بند، چار مزید گرفتار

2026-07-12
بی جے پی ہماری حکومت   گرانے اور این سی کو توڑنے   کی کوشش کر رہی ہے:عمر
اہم ترین

بی جے پی ہماری حکومت  گرانے اور این سی کو توڑنے  کی کوشش کر رہی ہے:عمر

2026-07-12
Next Post
جموں و کشمیر میں بڑا ردوبدل‘۸۲پولیس افسران تبدیل

۲۴گھنٹے میں چوری کا کیس  حل کیا‘ مسروقہ سامان برآمد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.