ایجنسیز
جموں؍۸؍ اپریل
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے بدھ کے روز دہشت گرد تنظیموں، بشمول لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین، سے مبینہ روابط کے الزام میں دو سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا،۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ برطرفیاں آئینِ ہند کے آرٹیکل۳۱۱(۲)(سی)کے تحت عمل میں لائی گئیں، جو انتظامیہ کی ’’دہشت گردی کے خلاف صفر برداشت‘‘ پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں سے عسکریت پسند عناصر کا مکمل خاتمہ ہے۔
سنہا نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک ’’دہشت گردی کے ناسور کی آخری جڑ کو حکومتی نظام سے اکھاڑ نہ پھینکا جائے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی عزم ظاہر کیا تھا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں ’’دہشت گردی کے عفریت کا مکمل، فیصلہ کن اور مستقل خاتمہ کریں گی‘‘۔
برطرف کیے گئے ملازمین میں سے ایک، فرحت علی کھانڈے، ضلع رام بن کے محکمہ تعلیم میں چہارم درجے کا ملازم تھا، جس پر الزام ہے کہ وہ حزب المجاہدین کے لیے کام کر رہا تھا اور اپنی سرکاری ملازمت کو عسکری سرگرمیوں کی بحالی اور نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق، کھانڈے پہلی بار۲۰۱۱ میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی نظر میں اس وقت آیا جب ایک حوالہ نیٹ ورک کی تحقیقات ہو رہی تھیں، جو دہشت گردوں کے خاندانوں میں رقوم تقسیم کرتا تھا۔ اسی سال اسے گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں ضمانت پر رہا ہو کر مبینہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ مسلسل دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ رابطے میں رہا اور سہولت کار کے طور پر کام کرتا رہا۔۲۰۲۲میں اس کے خلاف ایک خصوصی عدالت میں چارج شیٹ بھی دائر کی گئی تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق’’ہمیں اپریل۲۰۱۱ تک معلوم نہیں تھا کہ فرحت حزب المجاہدین کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کا نام اُس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ایک حزب المجاہدین کے دہشت گرد کو گرفتار کیا، جو سات دہشت گرد خاندانوں میں رقوم تقسیم کر رہا تھا۔ پولیس نے فرحت کو بھی گرفتار کیا، لیکن اکتوبر۲۰۱۱ میں وہ ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ اپنی سرگرمیوں میں ملوث ہو گیا‘‘۔
دوسرا ملازم، محمد شفیع ڈار، ضلع بانڈی پورہ کا رہائشی ہےاور دیہی ترقی کے محکمے میں ہمدردی کی بنیاد پر تعینات کیا گیا تھا۔
اس پر الزام ہے کہ وہ لشکرِ طیبہ کا ساتھی بن کر کام کر رہا تھا اور دہشت گردوں کو لاجسٹک و عملی مدد فراہم کرتا تھا، جس میں محفوظ پناہ گاہوں کا انتظام، نقل و حرکت میں سہولت اور سیکیورٹی فورسز سے متعلق حساس معلومات کی فراہمی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق، ڈار کو اپریل۲۰۲۵ میں ایک مشترکہ ناکہ چیکنگ کے دوران گرفتار کیا گیا، جہاں اس کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود، بشمول ایک اے کے ۵۶رائفل اور ایک گرینیڈ برآمد ہوا۔
مزید تحقیقات سے یہ بھی اشارہ ملا کہ وہ ایک فعال آپریشنل ساتھی بن چکا تھا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھا۔
حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کے تحت اب تک جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے مبینہ روابط رکھنے والے۹۰سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔
سنہا نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور کسی بھی ایسے عنصر کو، جو ریاست کے خلاف ہو، سرکاری نظام میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔










