جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے نے حالیہ برسوں میں جس تیزی سے ترقی کی ہے، وہ نہ صرف حوصلہ افزا ہے بلکہ خطے کی معیشت کے لیے ایک نئی امید بھی بن کر ابھری ہے۔ لاکھوں سیاحوں کی آمد نے جہاں مقامی کاروبار، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ اور دستکاری کے شعبوں کو نئی زندگی دی ہے، وہیں اس نے ایک اہم سوال بھی کھڑا کر دیا ہے: کیا یہ ترقی پائیدار ہے؟
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ترقی کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور جب بات ایسے علاقوں کی ہو جو ماحولیاتی طور پر حساس ہوں، تو یہ قیمت کہیں زیادہ بھاری ہو سکتی ہے۔ کشمیر، جسے قدرت نے بے مثال حسن اور نازک ماحولیاتی توازن سے نوازا ہے، وہاں بے ہنگم ترقی کے نتائج دیرپا اور بعض اوقات ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے امور سے متعلقہ ایک پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی حالیہ رپورٹ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سیاحت کے فروغ کو جامع منصوبہ بندی کے بغیر جاری رکھا گیا، تو یہ نہ صرف مقامی انفراسٹرکچر پر دباؤ ڈالے گا بلکہ ماحولیات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایک سنجیدہ اشارہ ہے کہ وقت آ گیا ہے جب ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاحت جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ لاکھوں افراد کی روزی روٹی اس شعبے سے جڑی ہوئی ہے۔ 2022 سے 2024 کے درمیان سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور لوگوں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ یہاں تک کہ غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔
لیکن یہ کامیابی اپنے ساتھ ایک خاموش خطرہ بھی لاتی ہے۔ مخصوص سیاحتی مقامات پر حد سے زیادہ ہجوم نہ صرف قدرتی وسائل پر دباؤ ڈالتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔ پانی، صفائی، ٹریفک اور دیگر بنیادی سہولیات پر بوجھ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف سیاحوں کا تجربہ متاثر ہوتا ہے بلکہ مقامی لوگوں کی زندگی بھی دشوار ہو جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں منصوبہ بندی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ نئے سیاحتی مقامات کی ترقی ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہاں مناسب انفراسٹرکچر، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم، اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ صرف سڑکیں اور ہوٹل بنانا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ایک مخصوص مقام کتنے سیاحوں کو برداشت کر سکتا ہے۔
کشمیر میں حالیہ دنوں میں ریلوے کے بعض منصوبوں کا ترک کیا جانا ایک اہم مثال ہے کہ جب ترقی اور ماحولیات کے درمیان ٹکراؤ ہو، تو دانشمندی کا تقاضا کیا ہوتا ہے۔ زرعی زمین اور باغات، جو نہ صرف معیشت بلکہ ثقافت کا بھی حصہ ہیں، ان کی قربانی دے کر ترقی حاصل کرنا درحقیقت ایک خسارے کا سودا ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے کا خیر مقدم اسی لیے کیا گیا کیونکہ اس میں ایک بڑے نقصان کو بروقت روکا گیا۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ انہیں صرف مزدور کے طور پر نہیں بلکہ کاروباری شراکت دار کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ ہنر مندی کی تربیت، کاروباری معاونت اور مقامی سطح پر سرمایہ کاری ایسے اقدامات ہیں جو اس ترقی کو زیادہ پائیدار بنا سکتے ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے ایڈونچر، ایکو ٹورزم اور ونٹر ٹورزم جیسے اعلیٰ معیار کے سیاحتی شعبوں پر زور دینا بھی ایک مثبت تجویز ہے۔ یہ نہ صرف سیاحوں کے معیار کو بہتر بناتا ہے بلکہ کم تعداد میں زیادہ آمدنی کا ذریعہ بھی بنتا ہے، جس سے ماحولیات پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ ہے مقامی آبادی کا اعتماد۔ ترقی کے کسی بھی منصوبے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس میں مقامی لوگوں کی شمولیت ہو۔ اگر ترقی کے ثمرات صرف چند ہاتھوں تک محدود رہیں اور مقامی لوگ خود کو اس عمل سے کٹا ہوا محسوس کریں، تو یہ عدم اطمینان کو جنم دے سکتا ہے۔
اسی تناظر میں، بے گھر اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی بحالی کا مسئلہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس حوالے سے کئی اقدامات کیے ہیں، لیکن ابھی بھی ہزاروں خاندان امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ مستقل رہائش، روزگار اور سماجی انضمام کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ایک فلاحی معاملہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ماحولیات کا تحفظ اولین ترجیح رہے۔ جنگلات، جھیلیں، دریا اور زرعی زمینیں نہ صرف قدرتی وسائل ہیں بلکہ کشمیر کی شناخت بھی ہیں۔ اگر یہ متاثر ہوتے ہیں، تو اس کا اثر نہ صرف ماحول بلکہ معیشت پر بھی پڑے گا۔
آخرکار، سوال یہ نہیں کہ کشمیر کو ترقی کرنی چاہیے یا نہیں—یہ تو ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ترقی ناگزیر ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ ترقی کس قیمت پر حاصل کی جائے گی۔ اگر یہ قیمت ماحولیات کی تباہی، ثقافتی ورثے کے نقصان اور سماجی عدم توازن کی صورت میں ادا کی گئی، تو یہ ترقی دیرپا نہیں ہوگی۔
کشمیر اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ترقی کے بے شمار مواقع ہیں، اور دوسری طرف ان مواقع کے ساتھ جڑے خطرات۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا جائے—ایسا راستہ جو نہ صرف آج کی ضروریات کو پورا کرے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی اس جنت نظیر خطے کو محفوظ رکھے۔
ترقی کا سفر جاری رہنا چاہیے، مگر اس کی سمت کا تعین احتیاط، شعور اور دور اندیشی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو کشمیر کو ایک مضبوط، مستحکم اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔





