نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے جمعہ کو کہا کہ دہلی اسمبلی میں ‘پھانسی گھر’ کو ‘ٹفن روم’ بتا کر بی جے پی مجاہدینِ آزادی کی توہین کر رہی ہے۔
مسٹر کیجریوال نے استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد آج صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہلی اسمبلی کا احاطہ تاریخی ہے۔ جب انگریز دارالحکومت کو کلکتہ سے دہلی لائے تھے، اس وقت 1912 میں یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت میں 2022 میں اس وقت کے اسمبلی اسپیکر رام نیواس گوئل کی کوششوں سے پتہ چلا کہ اس عمارت کے ایک کونے میں ‘پھانسی گھر’ تھا۔ اس پھانسی گھر میں مجاہدینِ آزادی کو پھانسی دی جاتی تھی۔ ہماری حکومت نے اس جگہ کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، وہ یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ یہ پھانسی گھر نہیں بلکہ ٹفن روم تھا۔ میرے خیال میں مجاہدینِ آزادی کی اس سے بڑی توہین نہیں ہو سکتی۔ مجھے اسمبلی میں بلایا گیا اور کہا گیا کہ ثابت کرو کہ وہ پھانسی گھر تھا۔ ہم نے کمیٹی کے سامنے کہا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ پھانسی گھر نہیں بلکہ ٹفن روم تھا؟ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ جان بوجھ کر مجاہدینِ آزادی کی توہین کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ وہ پھانسی گھر نہیں تھا۔
مسٹر کیجریوال نے مزید کہا کہ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، تب سے دہلی کا برا حال ہے۔ دہلی میں چاروں طرف کوڑا ہی کوڑا ہے۔ اسپتالوں میں دوائیں نہیں مل رہی ہیں، بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے۔ ہر طرف افراتفری مچی ہوئی ہے۔ بی جے پی کو دہلی نہیں چلانی، صرف سیاست کرنی ہے۔










