نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) مغربی ایشیا میں جاری شدید فوجی تصادم کے درمیان وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعہ کے روز یہاں ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہاں رائے سینا ڈائیلاگ سے الگ ہونے والی اس ملاقات کو مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر جے شنکر نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بھی ٹیلی فون پر مغربی ایشیا کی صورتحال پر بات چیت کی تھی۔
وزارتِ خارجہ کے سکریٹری وکرم مصری نے بھی یہاں واقع ایرانی سفارت خانے جا کر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی تھی۔ ڈاکٹر جے شنکر اور مسٹر خطیب زادہ کی ملاقات کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے، تاہم ڈاکٹر جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ملاقات کی تصاویر شیئر کی ہیں۔
بعد میں مسٹر خطیب زادہ نے بھی صحافیوں سے بات چیت میں اس ملاقات کی تصدیق کی۔ انہوں نے ایران کے جنگی جہاز پر امریکی بحریہ کے حملے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اس جنگی جہاز پر ہتھیار موجود نہیں تھے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے کوئی اشتعال انگیز کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ہندوستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کی تہذیبوں کی جڑیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں ممالک ہند-فارسی ثقافت اور تہذیب کے حامل ہیں اور یہ ہماری ثقافتی و تہذیبی وراثت کے مطابق ہے۔ ایران ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔










