نئی دہلی، 3 مارچ (یو این آئی) عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ دہلی اسمبلی میں مبینہ ’پھانسی گھر‘ کے معاملے میں وہ 6 مارچ کو استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔
مسٹر کیجریوال نے منگل کے روز اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر 6 مارچ کو پیش ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ خط میں انہوں نے کہا کہ 18 فروری کو جاری کردہ سمن کی بنیاد پر وہ 6 مارچ کو دوپہر تین بجے کمیٹی کے سامنے ذاتی طور پر حاضر ہوں گے۔ انہوں نے شفافیت اور عوامی جوابدہی کے پیشِ نظر کمیٹی کی کارروائی کو براہِ راست نشر کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط کی کاپی شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’’دہلی آلودگی سے جوجھ رہی ہے، سڑکیں ٹوٹی پڑی ہیں، ہر طرف کوڑے کے ڈھیر ہیں، ہسپتالوں میں دوائیں نہیں ہیں، دہلی اسمبلی نے ’پھانسی گھر‘ سے متعلق سوال پوچھنے کے لیے مجھے بلایا ہے۔‘‘
عآپ لیڈر نے مزید کہا کہ انہوں نے استحقاق کمیٹی کو مطلع کر دیا ہے کہ سمن کے مطابق وہ 6 مارچ کو حاضر رہیں گے اور شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری درخواست ہے کہ کارروائی کی براہِ راست نشریات کی جائیں۔
دہلی اسمبلی کے احاطے میں واقع مبینہ ’پھانسی گھر‘ کی صداقت کو لے کر یہ معاملہ چل رہا ہے۔ استحقاق کمیٹی نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، سابق اسپیکر رام نیواس گوئل اور سابق ڈپٹی اسپیکر راکھی بڑلان کو طلب کیا ہے۔ کمیٹی کو اس بات کی تحقیقات کرنی ہے کہ اس ’پھانسی گھر‘ کے افتتاح سے جڑے حقائق اور طریقہ کار کیا تھے۔










