نئی دہلی، 21 فروری (یو این آئی)
وزارتِ تجارت و صنعت نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ ٹیرف کے حوالے سے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا گہرائی سے تجزیہ کر رہی ہے۔
ہفتہ کے روز جاری ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ ’’ہم نے گزشتہ روز ٹیرف سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا نوٹس لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بعض اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے اور ہم ان تمام پیش رفت اور ان کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘
امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اس درخواست پر فیصلہ سنایا جس میں صدر ٹرمپ کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت ٹیرف عائد کرنے کے اختیار کو چیلنج کیا گیا تھا۔
امر ملحوظ رہے کہ آئی ای ای پی اے صدر کو مختلف اقدامات کرنے کا اختیار دیتا ہے، جیسے کہ تحقیقات کرنا، تحقیقات کے دوران پابندیاں عائد کرنا یا درآمد و برآمد پر پابندی لگانا۔
دریں اثنا کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ہفتے کے روز ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے اعلان کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ملک کے مفادات کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں جے رام رمیش نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بیانات کا حوالہ دیا جو ان کی درآمدی محصولات کی پالیسی کو منسوخ کرنے کے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سامنے آئے۔ کانگریس رہنما کے مطابق مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ان کے ’قریبی دوست‘ ہیں۔ ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدہ اعلان کے مطابق جاری رہے گا اور انہوں نے ذاتی طور پر 10 مئی 2025 کو ہندوستانی سامان پر درآمدی محصول بڑھانے کی دھمکی دے کر ’آپریشن سندور‘ کو روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔
مسٹر رمیش نے امریکی صدر کے گزشتہ دو فروری کے اس بیان کا بھی ذکر کیا، جس میں ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے مسٹر ٹرمپ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’وزیر اعظم مودی کے ساتھ دوستی اور احترام کے باعث اور ان کی درخواست پر، فوری اثر سے ہم امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ایک تجارتی معاہدے پر متفق ہوئے ہیں‘۔
کانگریس رہنما نے اس اعلان کے وقت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ ’وزیر اعظم مودی کو ہندوستانی وقت کے مطابق 2 فروری کی رات صدر ٹرمپ سے ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان کروانے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ اس دوپہر میں لوک سبھا میں ایسا کیا ہوا تھا، جس نے مسٹر مودی کو اتنا مایوس کر دیا اور توجہ ہٹانے کے لیے وائٹ ہاؤس میں اپنے قریبی دوست سے رابطہ کرنے پر مجبور کیا؟‘
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے سیاسی مجبوری میں یہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت صرف 18 دن اور انتظار کر لیتی تو ہندوستانی کسانوں کو ان کی تکلیف اور بحران سے بچایا جا سکتا تھا اور ہندوستانی خودمختاری کا تحفظ کیا جا سکتا تھا‘۔ اس معاہدے کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم کی مایوسی اور سپردگی کے باعث ملک کو ہندوستان۔ امریکہ تجارتی معاہدے کی صورت میں سخت آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے‘۔










