نئی دہلی، 21 فروری (یو این آئی)
وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتہ کے روز نئی دہلی میں برازیل کے صدرلوئس اناسیو لولا دا سلوا سے ملاقات کی اور ہند-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کو سراہا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں مسٹر جے شنکر نے کہا، "برازیل کے صدر لولا دا سلوا، جو سرکاری دورے پر ہندوستان آئے ہیں، سے ملاقات میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہمارے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ان کے گرمجوش جذبات اور رہنمائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آج بعد میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ہمارے تعلقات کو نئی رفتار بخشیں گی۔”
صدر لولادا سلوا اپنے اب تک کے سب سے بڑے وفد کے ساتھ ہندوستان پہنچے ہیں، جس میں 11 کابینی وزراء، 300 سے زائد کاروباری شخصیات اور 50 سی ای اوز شامل ہیں، جو بزنس فورم میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ وزیرِ اعظم مسٹرنریندر مودی کے جولائی 2025 میں براسیلیا کے تاریخی دورے کے بعد ہو رہا ہے، جو پچاس برس سے زائد عرصے میں کسی ہندوستانی وزیرِ اعظم کا پہلا دورہ تھا۔ توقع ہے کہ یہ وفد دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کو فروغ دے کر ہند-برازیل تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔
اس سے قبل دن میں صدر لولا دا سلوا کا راشٹرپتی بھون میں باضابطہ استقبال کیا گیا، جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نریندر مودی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو بھی موجود تھیں۔
جمعہ کے روز صدر لولا دا سلوا نے نئی دہلی میں برازیل کی ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ پروموشن ایجنسی (اپیکس) کے پہلے دفتر کا افتتاح کیا، جس کا مقصد برازیلی مصنوعات اور خدمات کو عالمی منڈیوں میں فروغ دینا اور برازیل کی معیشت کے اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
ہندوستان میں برازیل کے سفیر کینتھ دا نوبریگا نے صدر لولادا سلوا اور وزیرِ اعظم مودی کے درمیان مضبوط باہمی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے اسے "عالمی جنوب کی ایک تاریخی سربراہی ملاقات” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما نہ صرف ہم منصب ہیں بلکہ باہمی اعتماد اور دوستی کے رشتے میں بھی بندھ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندستان کی جانب سے منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے انعقاد کو برازیل میں بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔










