ترواننت پورم، 23 جنوری (یو این آئی)
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو اس بات پر زور دیا کہ کیرالہ ایک فیصلہ کن سیاسی تبدیلی کی دہلیز پر کھڑا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) ریاست میں طرزِ حکمرانی کا ایک متبادل ماڈل پیش کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔
پوتھری کنڈم میدان میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کا موجودہ مزاج واضح طور پر دہائیوں کی اس سیاست سے چھٹکارا پانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے جسے انہوں نے’جمود کا شکار اور تفرقہ انگیز سیاست‘ قرار دیا۔ ترواننت پورم کارپوریشن انتخابات میں بی جے پی کی حالیہ جیت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اسے تاریخی اور بے مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ کیرالہ میں پارٹی کی توسیع اور ترقی کی بنیاد ہے ۔
انہوں نے کہا،’جو برسوں سے نہیں بدلا وہ اب بدل جائے گا۔ جو گجرات کی ایک میونسپلٹی سے شروع ہوا تھا وہ اب ترواننت پورم میں جڑ پکڑے گا اور پورے کیرالہ میں پھیل جائے گا۔‘
وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی دارالحکومت کے انتخابی فیصلے نے حکمراں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور کانگریس کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) دونوں سے بڑھتی ہوئی عوامی بیزاری کی عکاسی کی ہے ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ یہ دونوں محاذ-کانگریس اور سی پی ایم-دہائیوں سے ایک’فکسڈ میچ‘ کھیل رہے ہیں، جس نے ترقی کو روک رکھا ہے اور نوجوانوں کو مواقع سے محروم کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا، ’کیرالہ اب بدعنوانی، بدانتظامی اور سیاسی موقع پرستی سے آزادی چاہتا ہے ۔‘
وزیر اعظم نے جزوی طور پر ملیالم زبان میں بات کرتے ہوئے یقین دلایا کہ بی جے پی کی قیادت میں ترواننت پورم تیز رفتار ترقی اور ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کا مشاہدہ کرے گا۔ گجرات کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح وہاں بی جے پی کو بار بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، مگر آہستہ آہستہ عوامی اعتماد جیت کر وہ ایک غالب سیاسی قوت بن کر ابھری۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کارکن پرعزم اور ثابت قدم رہیں تو کیرالہ میں بھی اب ایسی ہی تبدیلی ممکن ہے ۔
کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ یہ پارٹی اپنے ترقیاتی ایجنڈے کو ترک کر چکی ہے ۔ انہوں نے کانگریس پر تفرقہ انگیز سیاست کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کیرالہ کو’فرقہ وارانہ تجربات کی لیباریٹری‘ بنا دیا گیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو اس کی حقیقی صلاحیتوں کے ادراک کے لیے ایسے اثرات سے آزاد ہونا چاہیے ۔
وزیر اعظم نے ایل ڈی ایف کو بھی ہدف تنقید بنایا اور ان پر کیرالہ کی ثقافتی اقدار کا احترام نہ کرنے اور بدعنوانی کے ذریعے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا۔ کوآپریٹو بینک اسکیموں سمیت مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کی بچت کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا،’بی جے پی کو ایک موقع دیں اور عوام سے لوٹا گیا ایک ایک روپیہ واپس لایا جائے گا۔‘
سبری مالا ایپا مندر میں سونے کے مبینہ نقصان سے متعلق تنازع کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ عقیدت مندوں کے لیے عقیدے کا ایک سنگین معاملہ ہے ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر کیرالہ میں بی جے پی برسرِاقتدار آتی ہے تو ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر عقیدت مندوں کے اعتماد کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا،’یہ میری گارنٹی ہے ۔ جو بھی قصوروار پایا گیا اسے جیل بھیجا جائے گا۔‘
پروگرام کے دوران، وزیر اعظم نے ایڈووکیٹ وی وی راجیش کو ترواننت پورم کا میئر بننے پر مبارکباد دی اور اعتماد ظاہر کیا کہ نئی قیادت شہر کی ترقی میں مثبت تبدیلی اور نئی رفتار لائے گی۔ یہ خطاب آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل کیرالہ میں این ڈی اے کی وسیع تر انتخابی مہم کا حصہ تھا، جس میں وزیر اعظم نے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ ان انتخابات کو ریاست کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھیں۔
بعد ازاں، وزیر اعظم نے کیرالہ کے دورے کے دوران مختلف مذہبی رہنماؤں اور سماجی نمائندوں سے ملاقات کی۔










