چلئے صاحب شک کے بیج جو بوئے گئے تھے وہ آہستہ آہستہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکے ہیں …….اب بات بات اور ہرایک بات پر شک کیا جا رہا ہے …….شک کیا جانے لگا ہے ۔کوئی بڑی بات نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے اگر جموں میں حالیہ دنوں کی سردی کو کسی سازش کا نتیجہ قرار دیا جائے اور…….اور وادی میں آجکل کی کھلکھلاتی دھوپ کو بھی کشمیریوں کےخلاف سازش سمجھا جائے ۔یہ سب ہو سکتا ہے ……. آج تک اگر نہیں ہو ا ہے تو صاحب اس کا یہ مطلب نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے کہ اب نہیں ہو گا …….آج تک تو یہ بھی نہیں ہو تا تھا کہ جموں شہر میں موجود گوشت کی دکانوں پر اعتراض کیا جائے ‘ انہیں بند کرنے کو کہا جائے ‘ ان کی موجودگی کےخلاف احتجاج اور مظاہرے کئے جائیں ……. آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ……. لیکن اب ہورہا ہے …….اب ہو گا اور اس لئے ہو گا کیونکہ شک کے بیج تناور درخت بن گئے ہیں …….ممکن ہے اور سو فیصد ممکن ہے کہ جوڈیشل سروس میں محض میرٹ کی بنیاد پر جموں کے ’ہندؤں‘ نے بازی مار لی ہو …….اور اس مسابقتی امتحان میں کشمیر کے ’مسلمان ‘ پیچھے رہ گئے ہوں …….ممکن ہے کہ ایسا ہی ہوا لیکن ……. لیکن اب اس کی بھی تحقیقات کی بات ہو رہی ہے …….اس پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں ‘ اسے بھی سازش قرار دیا جارہا ہے …….سوال کیا جارہا ہے کہ کشمیر سے صرف ۱۳ ’مسلمان‘ ہی کیوں اور جموں سے ۲۹ ۱ہندو کیسے منتخب ہو سکتے ہیں …….ہو سکتے ہیں جناب یہ کوئی بڑی یا انوکھی بات نہیں ہے…….یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی اور امتحان میں کشمیر کے ’مسلمان‘ بڑی تعداد میں کامیاب ہو جائیں اور جموں کے ’ہندو‘ کم تعداد میں …….تو کیا اب ہر ایک لسٹ ‘ ہر ایک فہرست ‘ ہر ایک سلیکشن ‘ ہر ایک انتخاب کو شک کی نظر سے دیکھ کر اسے متنازعہ بناکر اس پر تنازعہ کھڑا کرکے تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے …….جیسے کرکٹ اور فٹبال ٹیم کے انتخاب کے وقت کیا گیا …….جی ہاں ایسا ہی ہو گا …….اب ایسا ہی ہو گا اور اسے ہونے سے اب کوئی نہیں روکے گا ……. کوئی نہیں روک سکتا ہے اور……. اور اس لئے نہیں روسکتا ہے کیونکہ شک کے بیج یقینا ایک تناور اور مضبوط درخت میں تبدیل ہو گئے ہیں …….ایسا تناور درخت جسے آسانی سےکاٹا نہیں جا سکتا ہے…….اکھاڑا نہیں جا سکتا ہے ……. بالکل بھی نہیںجا سکتا ہے ۔ ہے نا؟





