نئی دہلی، 16 جنوری (یو این آئی) دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے قائد حزب اختلاف آتشی کے بیان پر بڑھتے ہوئے تنازع پر کہا ہے کہ ایوان میں پیش آئے واقعے پر سیاست برداشت نہیں کی جائے گی اور اس معاملے کا حل ایوان کے اندر ہی نکالا جائے گا۔
مسٹر گپتا نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی اسمبلی میں 6 جنوری کو ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے باعث تین دن تک ایوان کی کارروائی متاثر رہی اور 7 جنوری کو ایوان کی کارروائی کو لفظ بہ لفظ (وربیٹم) پڑھ کر سنایا گیا۔ قائد حزب اختلاف آتشی کو ایوان میں آ کر وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا گیا لیکن وہ نہیں آئیں۔ قائد حزب اختلاف کے بیان کے بعد ایوان میں جس طرح کا ماحول بنا اس کے سبب بار بار کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔
انہوں نے کہا کہ معاملے کی تصدیق کے بعد قائد حزب اختلاف کو بار بار بلایا گیا اور اپنا موقف رکھنے کو کہا گیا لیکن وہ نہیں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جذبات سے عاری ہونے کے باعث اس طرح کے بیانات سامنے آتے ہیں۔ عام لوگوں کی حفاظت کے لیے جن گروؤ نے اپنا سب کچھ قربان کیا ان کا احترام کیا جانا چاہیے ۔ اس کے باوجود جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ مناسب نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی اس کارروائی کو ‘چوری اور سینہ زوری کہا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے ایف ایس ایل محکمے کو بھی نوٹس بھیجا جا رہا ہے اور انہیں رپورٹ پیش کرنے کے لیے 22 جنوری تک کا وقت دیا گیا ہے ۔ پنجاب کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے موصول جواب میں ذاتی وجوہات کی بنا پر مزید وقت مانگا گیا ہے ، اس لیے انہیں بھی 22 جنوری تک جواب دینے کی مہلت دی گئی ہے ۔
اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ دہلی اسمبلی کی خصوصی اختیارات کمیٹی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔ کمیٹی نے محترمہ آتشی کو نوٹس جاری کر کے 19 جنوری تک اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے ۔
انہوں نے کہا، حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن ایوان کی کارروائی کو چیلنج کرنا ایک سنگین معاملہ ہے ۔ یہ ایوان اور اس کے اراکین سے جڑا ہوا معاملہ ہے مگر باہر سے دباؤ بنایا جا رہا ہے ۔ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں انہیں جواب دینا پڑے گا۔ ملک کے آئین کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے آئین کی طاقت اور جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے ۔ یہ ایوان کی وقار سے جڑا معاملہ ہے ۔ ایوان کے واقعے پر اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت کرنا ایک سیاسی ارادہ ہے ۔ ہم کسی سیاسی مہم جوئی کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ اس معاملے کا فیصلہ ایوان کے اندر ہی ہوگا اور ضرورت پڑی تو ایوان کی میٹنگ بلائی جائے گی۔










