سچ تو یہ ہے کہ ممبئی ‘ ممبئی ہے ……سپنوں کی نگری ہے ۔سپنوں کی نگری اس لئے کہ …… کہ کہاجاتا ہے کہ ممبئی میں خواب پورے ہو تے ہیں …… ہر کسی کے ہوتے ہیں یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں …… لیکن کسی کسی کے ہو تے ہیں …… اسی لئے تو اسے سپنوں کی نگری کہا جاتا ہے ……جن کے سپنے ‘ جن کے خواب پو رے نہیں ہو تے ہیں ‘ ان میں کشمیر میں بھی ……ہم نے سنا ہے کہ کشمیر اور ممبئی کا گہرا تعلق ہے …… بالی ووڈ کے توسط سے کہ …… کہ کسی زمانے میں بالی ووڈ میں بننے والی کچھ فلموں کی شوٹنگ کشمیر میں ہو تی تھی ……شاید اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہو ئے کشمیر کی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے والا ہر کوئی ممبئی جا کر اس تعلق کو بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے…… اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ بھی ۔ان دنوں بھی عمر عبداللہ ممبئی میں ہیں اور…… اور بالی ووڈ اور کشمیر کے تعلق کو بحال کرنے پر زوردے رہے ہیں…… ان سے پہلے بھی بہت سے ایسی سعی کرچکے ہیں ……کچھ لوگ یہاں آئے بھی ‘ تمام سرکاری سہولیات اور رعایات کا فائدہ اٹھا کر واپس چلے گئے ……لیکن جب ان کی فلموں کو دیکھا گیا…… تو …… تو ان میں سے بیشتر نے کشمیریوں کی کردار کشی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی …… بالکل بھی نہیں رکھی ۔ کشمیر یوں کو ولن کے طور پیش کیا گیا ‘ کشمیر ی معاشرے کو انتہا پسند اور رجعت پسند ہونے کا فتویٰ بھی جاری کیا گیا ……ہر کسی نے نہیں ‘ لیکن کئی ایک نے ۔اگراسی طرح کی فلمیں بنانی ہے تو پھر کشمیر کو بالی ووڈ کی ضرورت نہیں ہے …… بالکل بھی نہیں اور……اور اپنے وزیر اعلیٰ صاحب کو بھی ممبئی ……ہمارا مطلب ہے سپنوں کی نگری میں اپناوقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بالی ووڈ آئے اور شوق سے آئے ……فلمیں بنائے ‘ لیکن ان فلموں میں ……ان فلموں کے ذریعے کشمیریوں کی کردار کشی نہ کرے ……کشمیر قدری حسن سے مالامال ہے ……ان دلفریب مناظر میں شوٹنگ کرکے بالی ووڈ اپنی فلموں کو مزید دلکش بنائےاور شوق سے بنایئے کہ اس سے کشمیر یوں کو بھی روز گار ملے گا ……لیکن صاحب کشمیر میں آکر ‘ کشمیر اور کشمیری مخالف فلم بنانا وہ بھی سرکاری کی میزبانی سے لطف اندوز ہو کر……کشمیر اور کشمیریوں سے بڑی نا انصافی ہے کہ …… کہ اس سے اچھا ہے کہ پھر بالی ووڈ یہاں آئے ہی نہیں کہ پھر کشمیر کو اس لی کوئی ضرورت نہیں ہے …… بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟




