نئی دہلی، 12 جنوری (یواین آئی) نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فکری دیانت داری اور قومی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں۔
مسٹر رادھا کرشنن نے یہاں پیر کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے نویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ اپیل کی۔ انہوں نے سوامی وویکانند کی یومِ پیدائش پر ان کی تعلیمات کو یاد کرتے ہوئے نوجوانوں سے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے خود کو بااختیار بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم اور مناسب تربیت ہی ہندوستان کے نوجوانوں کو وزیر اعظم نریندر مودی کے "وِکسِت بھارت 2047کے وژن کو حقیقت بنانے کے قابل بنائے گی۔
مسٹر رادھا کرشنن نے ہندوستان کی علمی تہذیبی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے نالندہ اور تکشیلا جیسے قدیم تعلیمی مراکز کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی دھرم گرنتھوں اور کلاسکس، اپنشدوں اور بھگوت گیتا سے لے کر کوٹلیہ کے ارتھ شاستر اور تروولّوور کے تروکّرل تک مسلسل تعلیم کو سماجی اور اخلاقی زندگی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی تعلیم کردار اور عمل کو تشکیل دیتی ہے اور یہ صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید سائنس اور روایتی اقدار کو ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ جے این یو کے جمہوری مزاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مباحثہ، گفتگو، اختلاف اور حتیٰ کہ تصادم بھی ایک صحت مند جمہوریت کے لازمی عناصر ہیں، لیکن ان عملوں کو بالآخر کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب کوئی فیصلہ لے لیا جائے تو مؤثر اور ہموار انتظامیہ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے نفاذ میں اجتماعی تعاون ہونا چاہیے۔
مسٹر رادھا کرشنن نے جے این یو کے شمولیتی ماحول اور یونیورسٹی کی جانب سے طلبہ کے داخلے اور اساتذہ کی تقرری میں مساوات اور سماجی شمولیت کو فروغ دینے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے ابھرتے اور تہذیبی شعبوں میں علمی شرکت کو وسعت دینے کی قیادت کو بھی سراہا۔ اس میں سنسکرت اور ہندوستانی مطالعات کے اسکول میں ہندو، جین اور بدھ مت کے مطالعہ کے لیے نئے مراکز کا قیام شامل ہے۔ انہوں نے تمل اسٹڈیز کے لیے خصوصی مرکز اور آسامیہ، اوڑیا، مراٹھی اور کنڑ میں چیئر اور پروگرام جیسی پہلوں کے ذریعے ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینے کے جے این یو کے مسلسل اقدامات کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی روح کے مطابق مادری زبانوں میں علم کی ترقی ہونی چاہیے۔










