جودھپور، 10 جنوری:
’سودیشی‘ اور ’سوا بھاشا‘ کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کے روز عوام سے اپیل کی کہ وہ مقامی مصنوعات تیار کریں اور استعمال کریں، اور گھر میں اپنی مادری زبان میں گفتگو کریں۔
امت شاہ نے کہا کہ زبان کسی بھی معاشرے، ثقافت اور مذہب کے تحفظ کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ضرورت کے مطابق کوئی بھی زبان سیکھی یا بولی جا سکتی ہے، لیکن بچوں سے گھر میں گفتگو صرف ہندی اور مقامی زبانوں میں ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے ان کا اپنے تشخص اور جڑوں سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔
وزیر داخلہ جودھپور میں منعقدہ مہیشوری گلوبل کنونشن سے خطاب کر رہے تھے، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے مہیشوری برادری کے افراد جمع ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا،“اگر آپ گھر میں بچوں سے اپنی زبان میں بات کریں گے تو وہ خود بخود اپنی تاریخ اور اپنی ریاست راجستھان سے جڑ جائیں گے۔ زبان ہی وہ ذریعہ ہے جو سماج کو زندہ رکھتی ہے، مذہب کو قائم رکھتی ہے اور ثقافت کو آگے بڑھاتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا،“جہاں ضرورت ہو وہاں کسی بھی زبان میں بات کریں، چاہے وہ غیر ملکی زبان ہی کیوں نہ ہو، لیکن گھر میں بچوں سے صرف مادری زبان میں ہی گفتگو کریں۔”
’آتم نربھر بھارت‘ کے ہدف پر زور دیتے ہوئے، امت شاہ نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ’سودیشی‘ ہی واحد منتر ہے، تاکہ بھارت 2047 تک ہر شعبے میں ایک سرکردہ ملک بن سکے۔
انہوں نے کہا،“اگر ہمیں بلند ترین مقام تک پہنچنا ہے تو آتم نربھرتا ہی واحد راستہ ہے، اور اسے کامیاب بنانے کا واحد منتر سودیشی ہے۔”
انہوں نے کاروباری طبقے سے اپیل کی کہ وہ ان مصنوعات کے ساتھ ساتھ، جو وہ پہلے سے تیار کر رہے ہیں، کم از کم ایک ایسی شے کی تیاری بھی شروع کریں جو فی الحال ملک میں نہیں بن رہی، تاکہ ’آتم نربھر بھارت‘ کو تقویت مل سکے۔
برادری کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے دور سے لے کر آزادی کے بعد ترقی اور ارتقا کے مراحل تک، مہیشوری برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا،“ملک کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ میں ان کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔”
برادریوں کے ایسے کنونشنز کو ملک کے لیے ایک مضبوط ربط قرار دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ یہ “قوم کو مضبوط کرتے ہیں، تقسیم نہیں کرتے۔”
انہوں نے کہا،“ہماری برادریوں نے کبھی ملک کو تقسیم نہیں کیا۔ یہ تنگ نظری کی علامت نہیں بلکہ اتحاد اور طاقت کی علامت ہیں۔ اتحاد نہ صرف برادری بلکہ پوری قوم کے لیے ضروری ہے۔”
انہوں نے مزید کہا،“اگر ہر برادری اپنے غریبوں کا خیال رکھے تو پورے ملک کے غریبوں کی دیکھ بھال ہو جائے گی۔ اگر ہر برادری خود کفیل ہو جائے تو پوری قوم خود کفیل بن جائے گی۔”
اس موقع پر امت شاہ نے ملک کی ترقی میں مہیشوری برادری کے تعاون کو تسلیم کرتے ہوئے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔










