نئی دہلی، 8 جنوری (یو این آئی) کانگریس نے مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی پینے سے لوگوں کی موت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی سنگین لاپرواہی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات خود وزیراعلیٰ کے دفتر سے ہو اور سپریم کورٹ کے جج سے علیحدہ ان کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ کرائی جانی چاہیے ۔
کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا کہ بی جے پی حکومت کی لاپرواہی کے سبب شہر کے پینے کے پانی میں سیوریج کے پانی کو داخل ہونے دیا گیا اور شہریوں کی بار بار وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بی جے پی حکومت کی لاپرواہی سے پیش آیا ہے ، جب کہ اسے روکا جاسکتا تھا۔ اس لاپرواہی کی وجہ سے جب معصوم بچے اور شیر خوار مر رہے ہیں، توریاست کے وزیر اعلیٰ اور سینئر وزراءخاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ المناک واقعہ بی جے پی حکومت کی تکبر، نااہلی اور انسانی جانوں کی مکمل بے توجہی کو بے نقاب کرتا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے لوگ انصاف، جوابدہی اور فوری اصلاحات کے مستحق ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ بی جے پی اپنی ناکامی اور اپنی بڑی لاپرواہی کی وجہ سے جانی نقصان کے لیے جواب دے ۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ اس واقعہ نے بی جے پی حکومت کا ظالمانہ، بے رحم اور مکمل طور پر لاتعلق چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔ اندور میں، مدھیہ پردیش حکومت کی سنگین لاپرواہی اور نااہلی کی وجہ سے چھ ماہ کے بچے سمیت 18 معصوم جانیں چلی گئیں اور 40,000 سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی انتہائی نگہداشت میں اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ وہی اندور شہر ہے جس نے مرکزی حکومت کے سوچھ سرویکشن میں لگاتار آٹھویں بار "سب سے صاف شہر” کا خطاب جیتا ہے ۔
مسٹر کھیڑا نے کہا، "وزیراعظم کے دفتر کو فوری تحقیقات کا حکم دیا جانا چاہئے ، نیزایشیائی ترقیاتی بینک اور سپریم کورٹ کی سطح کے جج کی نگرانی میں ایک آزادانہ تحقیقات ہو، تاکہ بی جے پی حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے ۔ صرف اس طرح کی مداخلت اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ اس بڑی ناکامی کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے ۔ ایشین ترقیاتی بینک میں 2003 میں بھوپال، گوالیار اور جبل پور کے لیے 20 کروڑ کا قرض دیاگیا تھا، آخر وہ قرض کہاں گیا؟”










