سرینگر/۲۴ دسمبر
امریکی محکمہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین غالباً بھارت کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر کشیدگی میں کمی سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا اور امریکہ،بھارت تعلقات میں گہرائی کو روکنا چاہتا ہے۔
منگل کے روز کانگریس کو پیش کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ’‘ملٹری اینڈ سکیورٹی ڈیولپمنٹس انوالوِنگ دی پیپلز ریپبلک آف چائنا ۲۰۲۵‘ میں امریکی محکمہ جنگ نے کہا کہ اکتوبر ۲۰۲۴ میں بھارتی قیادت نے چین کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
یہ معاہدہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر باقی ماندہ آمنے سامنے کے مقامات سے علیحدگی (ڈس انگیجمنٹ) سے متعلق تھا، جو برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات سے دو دن قبل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، شی مودی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ماہانہ اعلیٰ سطحی روابط کا آغاز ہوا، جن میں فریقین نے سرحدی نظم و نسق اور دوطرفہ تعلقات کے اگلے مراحل پر بات چیت کی‘جن میں براہِ راست پروازیں، ویزا سہولت کاری، اور ماہرینِ تعلیم و صحافیوں کے تبادلے شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا’’چین غالباً ایل اے سی پر کشیدگی میں کمی سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا اور امریکہ،بھارت تعلقات میں مزید گہرائی کو روکنا چاہتا ہے؛ تاہم بھارت غالباً چین کے اقدامات اور عزائم کے بارے میں بدستور شکوک رکھتا ہے۔ مسلسل باہمی عدم اعتماد اور دیگر رکاوٹیں تقریباً یقینی طور پر دوطرفہ تعلقات کو محدود رکھتی ہیں‘‘۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چین کی قومی حکمتِ عملی۲۰۴۹ تک ’چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ‘‘کے حصول کی ہے۔
اس وڑن کے تحت، ایک دوبارہ ابھرا ہوا چین اپنی ’اثر پذیری، کشش اور واقعات کو شکل دینے کی طاقت کو ایک نئی سطح‘ تک لے جائے گا، اور ایک ’عالمی معیار‘کی فوج تیار کرے گا جو ‘‘لڑ سکے اور جیت سکے’’ اور ملک کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا’پورے عزم کے ساتھ تحفظ‘ کرے۔
چین تین’بنیادی مفادات‘ کا دعویٰ کرتا ہے، جن کی تعریف ایسے امور کے طور پر کی گئی ہے جو چین کی قومی نشاۃِ ثانیہ کیلئے اس قدر مرکزی ہیں کہ ان پر سرکاری مؤقف کسی مذاکرات یا سمجھوتے کیلئے کھلا نہیں۔ ان میں چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کا کنٹرول، چین کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا، اور چین کی خودمختاری و علاقائی دعوؤں کا دفاع اور توسیع شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا’’چینی قیادت نے ’بنیادی مفاد‘ کی اصطلاح کو تائیوان اور جنوبی بحیرۂ چین، سینکاکو جزائر، اور بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں علاقائی تنازعات کے تناظر میں چین کے خودمختاری کے دعوؤں تک توسیع دی ہے‘‘۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اور چین کے تعلقات ‘‘کئی برسوں میں پہلے سے زیادہ مضبوط’’ ہیں، اور محکمہ جنگ اس پیش رفت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا’’ہم یہ کام جزوی طور پر پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) کے ساتھ فوج سے فوج رابطوں کے وسیع دائرے کو کھول کر کریں گے، جس کی توجہ اسٹریٹجک استحکام کے ساتھ ساتھ تنازع سے بچاؤ اور کشیدگی میں کمی پر ہوگی۔ ہم اپنے پْرامن عزائم کو واضح کرنے کے دیگر طریقے بھی تلاش کریں گے‘‘۔
رپورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ہند،بحرالکاہل میں امریکہ کے مفادات بنیادی ہیں‘لیکن ان کی حد بندی اور نوعیت معقول ہے۔
رپورٹ کے مطابق’’ہم چین کو گھیرنے، اس پر غلبہ پانے یا اسے ذلیل کرنے کے خواہاں نہیں۔ بلکہ صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی حکمتِ عملی کے مطابق، ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہند-بحرالکاہل میں کسی بھی ملک کو ہم پر یا ہمارے اتحادیوں پر غلبہ حاصل کرنے کی صلاحیت سے محروم رکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اتنے مضبوط ہوں کہ جارحیت پر غور تک نہ کیا جائے، اور یوں امن کو ترجیح دی جائے اور محفوظ رکھا جائے‘‘۔
اسی لیے محکمہ جنگ ہندبحرالکاہل میں محض قوت کے ذریعے ڈیٹرنس مضبوط بنانے کو ترجیح دے گا، محاذ آرائی کے ذریعے نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا’’صدر ٹرمپ چین کے ساتھ مستحکم امن، منصفانہ تجارت اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں، اور محکمہ جنگ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ فوجی طاقت کی مضبوط بنیاد سے یہ مقاصد حاصل کر سکیں۔ اس عمل میں ہم طاقت کا ایسا توازن قائم اور برقرار رکھیں گے جو ہم سب کو ہند-بحرالکاہل میں ایک باوقار امن سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنائے…ایسا امن جس میں تجارت کھلے اور منصفانہ انداز میں ہو، ہم سب خوشحال ہوں، اور تمام ممالک کے مفادات کا احترام کیا جائے۔‘‘
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










