کہتے ہیں کہ سرحدیں صرف انسانوں کیلئے ہوتی ہیں… اس لئے ہوتی ہیں کیونکہ سرحدیں انسانوں نے ہی بنائی ہیں…اللہ میاں نے نہیں ‘ بالکل بھی نہیں … اس لئے انکا اطلاق انسانوں پر ہی ہوتا ہے… کسی اور پر نہیں … بالکل بھی نہیں ۔ چلنے والی ہواؤں پر اور نہ بہنے والے پانی پر…اڑنے والے پرندوں پر اور نہ چرندوں پر …لیکن… لیکن صاحب ہمیں نہیں خبر تھی کہ اب سرحدوں کا اطلاق‘ان کی پابندیوں کا نفاذ انسانوں پر بھی نہیں ہو تا ہے… بالکل بھی نہیں ہو تا ہے کہ… کہ خبر یہ ہے کہ اُس پار… سرحد کے اُس پار سے ایک خاتون اِس پار آئی ہے… غلطی سے نہیں آئی ہے… ایسا نہیں ہے کہ اس خاتون کا پاؤں غلطی سے لکیر کے اِس پار پڑ گیا اور … اور وہ اِس پار آگئی… ایسا نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے … بلکہ خاتون دانستہ طور پر اِس پار آئی اور… اور اس لئے آئی کیونکہ خاتون کو غصہ تھا… اس بات کا غصہ تھا کہ اس کی والد کے ساتھ کسی بات پر بحث و تکرار ہو ئی تھی… اور اسی بات پر خاتون غصے میں آگئی اور غصہ بھی ایسا کہ خاتون نے گھر ہی نہیں چھوڑا… اپنا محلہ ہی نہیں چھوڑا… بلکہ اپنا ملک ہی چھوڑا … ہم نے سنا تھا… اور دیکھا بھی تھا کہ غصے میں انسان زیادہ سے زیادہ کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے… اور جب غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو… تو چوری چوری چپکے چپکے فریج سے کچھ کھانے کیلئے نکال لیتا ہے… لیکن صاحب پہلی بار ہم نے سنا… سنا کیا دیکھا کہ غصہ میں آکر ملک چھوڑ ا گیا … کیا غصہ اتنا بھی غصیل ہو تا ہے ‘ ہم نہیں جانتے ہیں … بالکل بھی نہیں جانتے ہیں… لیکن… لیکن ایک بات جو ہم جاننا چاہتے ہیں وہ …وہ یہ ہے کہ کیا سرحد پار کرنا اتنا آسان ہے کہ کوئی بھی اسے پھلانگ سکے… وہ کیا ہے کہ پچھلے دنوں یہ خبر بھی آئی …جی ہاں پونچھ سے ہی آئی کہ وہاں کا ایک شخص چلتے چلتے اتنا چلا کہ وہ اُس پار پہنچ گیا …اسے باپ کے ساتھ کوئی بحث و تکرار ہو ئی تھی اور نہ بیوی کے ساتھ جھگڑا … لیکن پھر بھی وہ اُس پار پہنچ گیا … ہم جانتے ہیں کہ سرحدیں ہیں‘ ہماری بنائی ہوئیں سرحدیں … ایسی سرحدیں کہ… کہ پرندہ پر بھی نہ مار سکے… لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ سرحدیں نہ ہوتیں … بالکل بھی نہیں ہو تیں… اور ایک خاتون کا باپ سے بحث و تکرار کے بعد سرحد پار کرنا خبر نہ بن جاتا… بالکل بھی نہ بن جاتا ۔ ہے نا؟




