اب صاحب جو سچ ہے وہ سچ ہے … جسے چھپایا نہیں جا سکتا ہے… جسے چھپایا نہیں جانا چاہئے ‘ بالکل بھی نہیں جانا چاہئے… اس لئے ہم بھی اس سچ کو نہیں چھپانا چاہتے ہیں اور… اور وہ سچ یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کے ممبران پارلیمنٹ … لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بول رہے ہیں… اپنا منہ کھول رہے ہیں… اور سو فیصد کھول رہے ہیں… اب کیا بول رہے ہیں ‘ اس سے ہمیں کوئی سرو کار نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے‘ ہم ان کی باتوں سے اتفاق کریں یا نہیں صاحب یہ بھی ضروری نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… لیکن جو سچ ہے وہ سچ ہے اور سچ یہ ہے کہ چاہے آغاروح اللہ ہو یا پھر چودھری رمضان یا کوئی اور بول رہے ہیں… اپنا منہ کھول رہے ہیں… اور ایسا ہی ہونا بھی چاہئے… اس لئے ہونا چاہئے کہ… کہ جموںکشمیر اپنے نمائندوں کو ملک میںجمہوریت کے اس سب سے بڑے معبد میں ان کی نمائندگی کیلئے بھیج دیتے ہیں… یہ دہلی میں سرینگر اور جموں کے نمائندے ہو تے ہیں… یہ ان کے ذمے ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی نمائندگی کریں… اور ان کی نمائندگی منہ کھول کر اور کچھ بول کر ہی کی جا سکتی ہے…منہ بند کرکے نہیں … بالکل بھی نہیں جیسا کہ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں… یہ دیکھ چکے ہیں کہ کچھ ایک ممبران تو ایک لفظ بھی منہ سے ادا نہیں کر پاتے تھے… ان کی سٹی پٹی گم ہو جاتی تھی… یہ لڑ کھڑانے لگتے تھے… کچھ ایک تو اس قدر گھبرا جاتے کہ… کہ اس گھبراہٹ میں کہتے کہ ’اب میں کیا بولوں‘… لیکن اب کے ایسا دیکھنے میں نہیں مل رہا ہے… بالکل بھی نہیں مل رہا ہے… این سی کے ممبران اپنا منہ کھول رہے ہیں… اور بول رہے ہیں… آپ ان کی باتوں سے اتفاق کر سکتے ہیں اور اختلاف بھی … لیکن اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ہے کہ … کہ یہ ممبران وہاں خاموش تماشائی کا رول نہیں نبھا رہے ہیں… اپنا اور اپنی پارٹی کا موقف … جموںکشمیر کا موقف سامنے رکھ رہے ہیں… اس کو سامنے لا رہے ہیں اور… اور پورے ملک کو بتا رہے ہیں… آگاہ کررہے ہیں کہ مختلف اشوز پر جموںکشمیر کے لوگ کیا رائے ‘ کیا خیالات رکھتے ہیں … اور یہ اس لئے ممکن ہو رہا ہے کیونکہ این سی کے ممبران پارلیمان لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بھی منہ کھول رہے ہیں… اور کچھ بول رہے ہیں ۔ ہے نا؟




