نئی دہلی/۲دسمبر
وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ’آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان اُن لوگوں کو منہ توڑ جواب دیتا ہے جو امن اور خیرسگالی کی زبان نہیں سمجھتے ۔
راج ناتھ نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی کارروائی کا موازنہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مضبوط عزم اور قیادت سے کیا اور کہا کہ سردار پٹیل ہمیشہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے تھے ، لیکن جہاں ضرورت پڑتی تھی وہاں جرا
¿ت مندانہ روش اختیار کرنے میں کبھی ہچکچاتے نہیں تھے ، جیسا کہ حیدرآباد کے ہندوستان سے انضمام کے وقت ہوا۔
وزیردفاع منگل کوگجرات کے وڈودرا میں سردار سبھا سے خطاب کر رہے تھے ۔
یہ تقریب’یونٹی مارچ‘کا حصہ تھی، جو نوجوانوں کے قومی پلیٹ فارم میرا یووا (ایم وائی) ہندستان کی جانب سے نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت کے تحت سردار ولبھ بھائی پٹیل کی۰۵۱ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی۔
آپریشن سندور کے کامیاب نفاذ کے لیے مسلح افواج کی ہمت اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا آج ہندوستانی فوجیوں کی بہادری اور صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے”ہم ایک امن پسند قوم ہیں جو کبھی بھی کسی ملک کو اشتعال نہیں دلاتی، لیکن اگر اشتعال دلایا جاتا ہے تو وہ ان لوگوں کو نہیں چھوڑتی جو بری نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں“۔
راج ناتھ سنگھ نے سردار پٹیل کو قوم کو متحد کرنے میں کلیدی معاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں’ون انڈیا ، بیسٹ انڈیا‘کے ان کے خواب کو مزید تقویت ملی ہے ۔
آرٹیکل۰۷۳کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے جموں و کشمیر کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کو یقینی بنایا ہے ۔
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سردار پٹیل کے دکھائے ہوئے راستے پر چل رہی ہے ، جس کے نتیجے میں ہندوستان، جو کبھی شکوک و شبہات سے گھرا ہوا تھا، آج دنیا کے ساتھ اپنی شرائط پر بات چیت کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس، دنیا اب بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی بات سنتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک بڑی اقتصادی اور اسٹریٹجک طاقت بننے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ سردار پٹیل کے بے پناہ تعاون کی وجہ سے ہواہے ۔
اقتدار میں آنے کے بعد سے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے غیرمتزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ۴۱۰۲سے پہلے ہندوستان اقتصادی حجم کے لحاظ سے دنیا میں ۱۱ویں نمبر پر تھا اور آج یہ چوتھے مقام پر پہنچ گیا ہے ، جو جلد ہی سرفہرست تین معیشتوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سیاسی اور جغرافیائی اتحاد کے ذریعے سردار پٹیل کی آزاد قوم کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ’کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘کے ہدف کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ہندوستان کو ثقافتی، سماجی، روحانی اور اقتصادی اتحاد کے تانے بانے سے باندھ رہی ہے ۔ ہم ’ایک بھارت ، شریشٹھ بھارت‘کے وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارا مقصد۷۴۰۲تک وکست بھارت کی تعمیر کرنا ہے ۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ حکومت سردار پٹیل کے قومی سلامتی کے وژن کو آگے بڑھا رہی ہے جنہوں نے دفاعی جدید کاری اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کی مقامی سطح پر پیداوار پر زور دیا تھا۔ آج میک ان انڈیا پہل کی وجہ سے ہم دوست ممالک کو فوجی آلات برآمد کرتے ہوئے دفاعی پیداوار میں آتم نربھر بن رہے ہیں۔ گزشتہ ۱۱سالوں میں ہماری دفاعی برآمدات میں تقریبا ۴۳گنا اضافہ ہوا ہے ۔ ہمارا مقصد۹۲۰۲تک۳لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار اور۰۵ہزارکروڑ روپے کی دفاعی برآمدات حاصل کرنا ہے ۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ سردار پٹیل کی پوری زندگی پاکیزگی اور دیانتداری کی علامت تھی اور ان اعلی نظریات سے متاثر ہو کر حکومت کا مقصد پارلیمنٹ میں آئین(۰۳۱ویں ترمیم) بل۵۲۰۲کو منظور کرانا ہے ، جس میں اعلی عہدوں پر فائز افراد کو بدعنوانی کے خلاف اخلاقی طور پر برتا
کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی عہدے پر موجود شخص کو کسی سنگین الزام کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور اسے ۰۳دن کے اندر ضمانت نہیں دی جاتی ہے تو وہ خود بخود اپنے عہدے سے فارغ ہو جائے گا“۔
وزیر دفاع نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کےلئے کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ قوم کے اتحاد، سالمیت اور خودمختاری کو برقرار رکھنا ایک ذمہ داری ہے جو سردار پٹیل نے ملک کی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور معاشرے کو متحد رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم نہ صرف سردار پٹیل کی اقدار کو پوری عقیدت اور پاکیزگی کے ساتھ پروان چڑھائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کے لیے تیار کریں گے ۔ یہ سردار پٹیل کی وراثت کو حقیقی خراج تحسین ہوگا۔
ایجنسیز










