حکومت صرف اکثریت کے بل پر ایوان چلانے کی مجاز نہیں، بلکہ اس پر یہ فرض بھی عائد ہے کہ وہ اپوزیشن کے اعتراضات کو تحمل سے سنے، ان کا جواب دے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں اپنی پالیسیوں میں اصلاح بھی لائے۔ جمہوریت میں طاقت کا ارتکاز نہیں بلکہ طاقت کی جواب دہی قوموں کو آگے بڑھاتی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ گزشتہ چند سیشنز میں پارلیمنٹ کا ماحول بے حد شور، نعرہ بازی اور تلخی کی نذر ہوا ہے۔ اہم قانون سازی چند منٹوں میں نمٹا دی گئی، بحث و مباحثے کا دائرہ محدود ہوتا گیا، اور اپوزیشن کو یہ شکایت رہی کہ اسے اپنے نکات اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ اس کے جواب میں حکومت یہ موقف اختیار کرتی رہی کہ اپوزیشن نے ایوان کو یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ قومی مفاد کے معاملات پر بھی سنجیدہ بحث سے گریز کرتی ہے۔ اس باہمی الزام تراشی نے پارلیمنٹ کے اصل مقصد کو دھندلا کر دیا ہے۔ کمزور جمہوریتوں میں اگر پارلیمنٹ صرف سیاسی کشمکش کا میدان بن جائے تو حکمرانی کا پورا ڈھانچہ غیر مو
¿ثر ہو جاتا ہے۔
سرمائی اجلاس سے قبل وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ ”پارلیمنٹ ڈرامے کی نہیں، ڈلیوری کی جگہ ہے“ اپنی جگہ درست ہے، لیکن ڈلیوری اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ایوان کو چلانے کے لیے زیادہ لچک، زیادہ تحمل اور زیادہ سیاسی وسعتِ نظر دکھائے۔
اپوزیشن کی طرف سے یہ مطالبہ کہ سپیشل انٹینسیو ریویڑن (ایس آئی آر)، دہلی کی فضائی آلودگی، لال قلعہ دھماکے، اور دیگر قومی معاملات پر بحث کرائی جائے، کوئی ناجائز مطالبہ نہیں۔ نہ ہی یہ ڈرامے کے زمرے میں آتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث سے بھاگنا، یا ایوان میں سوالات کو ٹالنا، جمہوری روح کے منافی ہے۔ اگر عوام کے حقیقی مسائل میں دہلی کی آلودگی، انتخابی فہرستوں کی درستگی، بے روزگاری، مہنگائی اور قومی سلامتی شامل ہیں تو پھر ان پر بحث سے کیسے گریز کیا جا سکتا ہے؟
حکومت کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ اپنی پالیسیوں کو اکثریت کے زور پر منظور کرائے بلکہ یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کی آواز کو تسلیم کرے۔ جمہوریت میں دلیل کی طاقت، تحریک زر کی طاقت سے زیادہ مقدس ہوتی ہے۔ حکومت اگر اپوزیشن کو سننے کا حوصلہ نہیں رکھتی تو پھر اس کا مطالبہ کہ اپوزیشن شور شرابے سے گریز کرے، اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اپوزیشن کا کام ایوان کو مفلوج کرنا نہیں بلکہ حکومت کو آئینی حدود میں رکھنا اور عوامی مفاد کے لیے بے لاگ سوال اٹھانا ہے۔ اگر اپوزیشن ہر سیشن کو صرف واک آو
¿ٹ، شٹ ڈاو ¿ن یا شور شرابے کی نذر کر دے تو پھر پارلیمنٹ کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
آج پارلیمنٹ کا بحران محض ایوان کی کارروائی کا بحران نہیں بلکہ جمہوری سوچ کے انحطاط کی نشانی ہے۔ ہماری سیاست میں برداشت کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ اختلاف رائے کو غداری کے برابر سمجھا جا رہا ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنے آپ کو حتمی حق پر سمجھتی ہے۔ ایسے ماحول میں پارلیمنٹ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو سیاسی اختلاف کو سیاسی انتشار میں بدلنے سے روکتا ہے، جہاں دلائل کے ذریعے تصادم کو تعاون میں بدلا جا سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں آنے والا سرمائی اجلاس ایک اہم امتحان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز بنائے، اپوزیشن کو بحث کا پورا موقع دے اور قومی معاملات پر کھلے دل سے مباحثے کو فروغ دے۔ دوسری طرف اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ ردعمل کی سیاست سے نکلے، ایوان میں پرسکون ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور عوامی مفاد کے ایجنڈے کو مرکز میں رکھے۔ اگر سیشن الزام تراشی، دھینگا مشتی اور ہنگامہ آرائی میں گزر گیا تو اس کا نقصان نہ حکومت کو ہو گا نہ اپوزیشن کو…. بلکہ صرف عوام کو ہو گا، جن کی امیدوں کا مرکز یہی پارلیمنٹ ہے۔
جمہوریت کا حسن اسی وقت برقرار رہتا ہے جب پارلیمنٹ کے دروازے مباحثے کے لیے کھلے ہوں، دلائل کے لیے جگہ ہو، اور سیاست میں وسعتِ ظرف باقی رہے۔ پارلیمنٹ وہ جگہ ہے جہاں اختلاف کو طاقت، اور اتفاق کو راستہ بنانا چاہیے۔ یہ ایوان ڈرامے کا نہیں، فیصلوں کا ہے؛ شور شرابے کا نہیں، حل کا ہے؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ایوان کسی حکومت یا اپوزیشن کا نہیں …. پوری قوم کا ہے۔










