سرینگر/۲۰ نومبر:
اکتوبر میں منعقد تین کامیاب ’’اپنے ہنرمند کو جانیں‘‘ تقریبات کے بعد، جنہوں نے پولو ویو مارکیٹ، جہلم کنارے اور گھنٹہ گھر جیسے مقامات پر ہنرمندوں سے براہِ راست ملاقاتوں کے ذریعے عوام کی توجہ حاصل کی، محکمہ دستکاری و ہنر بافی کشمیر نے آج ’’اپنے ہنرمند کو جانیں‘‘ دستکاری جشن کا آغاز کیا۔
تین روزہ یہ تقریب ریذیڈنسی روڈ کے خوبصورت شیرِ کشمیر پارک میں ’’روح پرور کشمیر‘‘ کے جارحانہ تعارفی مہم کے تحت شروع ہوئی۔
تقریب کا افتتاح کمشنر کشمیر انشل گرگ نے کیا، جنہوں نے وادی کی قدیم دستکاریوں کو نمایاں کرنے میں محکمہ کی کوششوں کو سراہا۔
گرگ نے موقع پر کہا کہ اس نوعیت کی نمائشیں تبدیلی کی قوت رکھتی ہیں۔ انہوں نے محکمہ دستکاری و ہنر بافی کشمیر کی جانب سے اس جشن کے انعقاد کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’اپنے ہنرمند کو جانیں‘‘ جیسے اقدامات بہت ضروری ہیں تاکہ ہمارے ماہر ہنرمند سامنے آئیں اور انہیں مناسب پلیٹ فارم ملے جہاں وہ مقامی عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے کشمیر کے ہنر اور ورثے کو پیش کرسکیں۔ ‘‘ان کا مزید کہنا تھا’’یہ پروگرام نہ صرف ہماری روایات کو نئی زندگی دیتے ہیں بلکہ ہنرمندوں کو معاشی طور پر مضبوط کرتے ہیں اور ان کی مہارت کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔‘‘
صوبائی کمشنر نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں دستکاری و ہنر بافی کی برآمدات دوگنی ہوئی ہیں جس سے کاریگروں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ جشن اس کامیابی کے بعد منعقد ہورہا ہے جب سرینگر کو عالمی سطح پر دو اہم اعزازات ملے:۲۰۲۱ میں اقوامِ متحدہ کی تخلیقی شہروں میں دستکاری و لوک فن کا درجہ، اور۲۰۲۴ میں عالمی دستکاری کونسل کے تحت دنیا کے دستکاری شہروں میں۶۳ واں مقام۔
یہ اعزازات سرینگر کی بے مثال دستکاری روایت کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہیں… پشمینہ کی نفیس بْنائی اور ہاتھ سے بنے قالینوں سے لے کر کاغذی ماش اور اخروٹ کی لکڑی کی نقش و نگاری تک ‘جو اس شہر کو ثقافتی بقا اور جدّت کا روشن مرکز بناتے ہیں۔
تقریب میں اعلیٰ افسران کے ساتھ محکمہ کے اہم ذمہ داران نے شرکت کی، جہاں ۳۶ نہایت اہتمام سے تیار کیے گئے اسٹالوں کی رونمائی کی گئی۔ ان میں جغرافیائی شناخت رکھنے والی دستکاری مصنوعات شامل ہیں، جن میں اصل پشمینہ، کانی شالیں، اور کشمیری قالین شامل ہیں، علاوہ ازیں ’’ایک ضلع ایک پیداوار‘‘ اور ’’ضلعی برآمدی مرکز‘‘ سے متعلق مصنوعات بھی رکھی گئی ہیں۔
نمائش کے ساتھ زندہ مظاہروں کے گوشے بھی قائم ہیں، جہاں کاریگر اپنے فن کی مشقت بھری باریکیوں کو پیش کرتے ہیں، اور ’’خود آزمائیں‘‘ والے گوشوں میں لوگ خود بھی زنجیری ٹانکے کی کڑھائی، پشمینہ بْنائی اور لکڑی کی نقش و نگاری آزما سکتے ہیں۔
جوش و خروش سے بھرے عوام، مقامی لوگ، سیاح، خاندان اور دستکاری کے دلدادہ بڑی تعداد میں پہنچے اور چنار کے زرد سایوں کے نیچے تقریب میں رونق بھر دی۔
یہ جشن وزیر اعظم کے مقامی صنعت، خود کفالت اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے والے تصور سے ہم آہنگ ہے، جو مقامی فنون کو معاشی ترقی، پائیدار سیاحت اور عالمی برآمدات کا وسیلہ بناتا ہے۔ ہنرمندوں اور خریداروں کے براہِ راست رابطے کے ذریعے مناسب قیمتوں کا فائدہ مل رہا ہے اور نقلی مصنوعات کی روک تھام میں بھی مدد مل رہی ہے، جبکہ ہر تخلیق کے پیچھے انسانی کہانی بھی نمایاں ہوتی ہے۔
ڈائریکٹر دستکاری و ہنر بافی کشمیر‘ مسرت اسلام نے اس موقع پر کہا کہ ’’یہ جشن ہماری جارحانہ کوششوں کا اہم حصہ ہے جس کے ذریعے ہم کشمیری دستکاری کو ازسرِنو زندہ کر رہے ہیں اور اسے تجارت سے جوڑ رہے ہیں، تاکہ ۸۰ء۳ لاکھ سے زائد ہنرمندوں کو جغرافیائی شناخت کے نفاذ، ہنر کی تربیت اور شناختی تربیتی نشستوں سے فائدہ پہنچے۔‘‘
اسلام نے کہا ’’سرینگر کے عالمی اعزازات کے بعد ہم محض دستکاری نہیں دکھا رہے بلکہ ہم ہم آہنگی، جدّت اور ثقافتی یکجہتی کا وہ بیانیہ پیش کر رہے ہیں جو مقامی پیداوار کی روح سے مطابقت رکھتا ہے۔‘‘
محکمہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ دو دن اس مقام کا رخ کریں، فنون کا قریب سے مشاہدہ کریں اور ایسی خریداری کریں جو براہِ راست ہمارے ہنرمندوں کے لیے مددگار ہو۔
جشن کے دوران روایتی کشمیری موسیقی، کہانی گوئی کی نشستیں جن میں نسل در نسل چلتی روایات سنائی جائیں گی، اور ایسے ورکشاپ بھی ہوں گے جہاں قدیم فنون کو جدید ڈیزائن سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔










