اس کو کہتے ہیں کہ آ بیل مجھے مار اور… اور اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ ‘عمرعبداللہ نے خود ہی بیل کو انہیں مارنے کی عوت خاص دی … کسی اور نے نہیں ‘ بالکل بھی نہیں… اس لئے اب اگر بیل وزیرا علیٰ کو مار رہاہے اور… اور زور زور سے مار رہا ہے تو عمرعبداللہ اس کی شکایت کرنے والے آخری شخص ہو نے چاہئیں…پہلے نہیں ‘ بالکل بھی نہیں ۔ یقینا عمرعبداللہ شکایت نہیں کررہے ہیں‘ لیکن… لیکن اندر ہی اندر خود کو کوس رہے ہوں گے کہ… کہ انہوںنے اُس دن صبح کس کا منہ دیکھا تھا… اُس دن جس دن انہوں نے جموںکشمیر میں ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا … یہ وعدہ الیکشن جیتنے سے پہلے کا تھا… ہم نہیں جانتے ہیں کہ وزیرا علیٰ نے اُس دن کس کا منہ دیکھا تھا … لیکن اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو… تو وہ یہ ہے کہ انہوں نے سوچا ہو گا کہ یہ وعدہ ہی تو ہے… اس سے پہلے بہت سے مراحل طے کرنے ہیں ‘ جن میںا لیکشن جیتنا اور پھر حکومت بنانا شامل ہے… پہلے یہ مراحل طے ہوں پھر دیکھیں گے… اور دیکھ لیجئے کہ بعد ازاں عمرعبداللہ الیکشن جیت بھی گئے ‘وزیرا علیٰ بھی بن گئے… وزیر اعلیٰ بنے ہو ئے انہیں ۱۳/۱۴ ماہ بھی ہو گئے لیکن… لیکن دو سو یونٹ بجلی کا وعدہ جہاں تھا وہیں ہے … مجال کہ اس نے ایک قدم بھی آگے کیا ہو… بالکل بھی نہیں کیا … ایسا نہیں ہے اور… اور بالکل بھی نہیں ہے کہ جموںکشمیر میں باقی سب کشل منگل ہے صرف بجلی کا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے…یقین کریں ایسا نہیں ہے… کشمیر میں ایوریسٹ سے بھی بلند حوصلوں والے مسائل ہیں… جو اپنی جگہ سے رتی بھر بھی نہیں ہل رہے ہیں… ان کی بلندی کے ساتھ ساتھ ان کے حوصلے بھی بلند ہو تے جا رہے ہیں… لیکن لوگوں کو کی نظروں میں اگر ان مسئلوں کا بھی کوئی باپ ہے … تو وہ ہے ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی…کہ جیسے وزیر اعلیٰ صاحب نے باقی سارے مسائل حل کئے جو لوگ صرف اس ایک مسئلہ پر انہیں کھڑا کررہے ہیں… کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں… کریں اور یقینا کریں گے اور اس لئے کریں گے کہ … کہ بات بجلی کی… اُس بجلی کی جو کبھی پیٹ بھر کے کشمیریوں نے دیکھی ہی نہیں ‘ جو ان کے ہاں زیادہ تر ٹک نہیں پاتی ہے … کئی دہائیوں سے ٹک نہیںپاتی … کم بخت اسی بجلی کا وعدہ‘ وہ بھی مفت میں‘کرکے وزیر اعلیٰ نے جنتا کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے… اس لئے پبلک چیخ رہی ہے اور وزیر اعلیٰ کو یہ چیخیں براداشت نہیں ہو رہی ہیں … بالکل بھی نہیں ہو رہی ہیں ۔ ہے نا؟




