سرینگر/۷ نومبر
بھارت نے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی ’خفیہ‘ ایٹمی سرگرمیاں دہائیوں پر محیط اسمگلنگ اور برآمداتی قوانین کی خلاف ورزیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
گزشتہ ہفتے، صدر ٹرمپ نے پاکستان کو ان ممالک میں شامل کیا تھا جو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بات اس جواز کے طور پر کہی تھی کہ ان کی حکومت تین دہائیوں کے وقفے کے بعد امریکہ کے اپنے ایٹمی اثاثوں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا، ’’خفیہ اور غیر قانونی ایٹمی سرگرمیاں پاکستان کے ماضی سے مطابقت رکھتی ہیں، جو دہائیوں پر محیط اسمگلنگ، برآمداتی قوانین کی خلاف ورزیوں اور خفیہ شراکت داریوں پر مبنی ہے۔‘‘
یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا گیا جو اس حوالے سے پوچھا گیا تھا۔
جیسوال نے کہا ’’بھارت نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری کی توجہ پاکستان کے ریکارڈ کے ان پہلوؤں کی جانب مبذول کرائی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا، ’’اسی تناظر میں ہم نے صدر ٹرمپ کے پاکستان کے ایٹمی تجربات سے متعلق تبصرے کو نوٹ کیا ہے‘‘۔
گزشتہ اتوار کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ امریکہ نے گزشتہ تین دہائیوں سے ایٹمی تجربات نہیں کیے، لیکن کئی ممالک، بشمول پاکستان، زیرِ زمین ایٹمی تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہاتھا’’ہم تجربات کریں گے کیونکہ وہ کر رہے ہیں۔ اور یقینا شمالی کوریا تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان بھی تجربات کر رہا ہے۔ وہ آپ کو اس کے بارے میں نہیں بتاتے۔ وہ زمین کے بہت نیچے تجربات کرتے ہیں جہاں کسی کو علم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ آپ صرف ایک ہلکی سی لرزش محسوس کرتے ہیں‘‘۔تاہم، پاکستان نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان نے نہ تو سب سے پہلے ایٹمی تجربات کیے تھے اور نہ ہی وہ دوبارہ سب سے پہلے انہیں شروع کرے گا‘‘۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ دیگر ممالک، جیسے روس اور چین، بھی خفیہ طور پر ایٹمی تجربات کر رہے ہیں جبکہ عوامی سطح پر اس بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرتے۔
ریٹائرڈ فوجی ‘میجر وکرانت جیٹلی کی متحدہ عرب امارات میں گرفتار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جیسوال کاکہنا تھا ’’ ہمیں بھارتی شہری میجر وکرانت جیٹلی سے متعلق معاملے کی مکمل آگاہی ہے۔ ابوظہبی میں ہمارے سفارت خانے کے قونصلر افسران کو باقاعدہ قونصلر رسائی حاصل ہے اور وہ ان سے چار مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ ہمارا سفارت خانہ انہیں ہر ممکن قونصلر معاونت فراہم کر رہا ہے۔ سفارت خانے کے اہلکار اہلِ خانہ، بشمول زیرِ حراست افسر کی اہلیہ، سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق ہمارا سفارت خانہ تمام ممکنہ مدد فراہم کر رہا ہے۔‘‘
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب میجر جیٹلی کی بہن اور اداکارہ سلینا جیٹلی نے اپنے بھائی کیلئے سفارتی معاونت کی درخواست کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ میجر جیٹلی گزشتہ ۱۴ ماہ سے حراست میں ہیں۔
میجر جیٹلی بھارتی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں، اور مسلح افواج سے سبکدوش ہونے کے بعد ۲۰۱۶ سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ میٹیٹی گروپ سے وابستہ تھے، جو تجارتی، مشاورتی اور رسک مینجمنٹ کے شعبوں میں سرگرم ہے۔
سلینا جیٹلی کی درخواست پر سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے وزارتِ خارجہ کے حکام کو ہدایت دی کہ وہ میجر جیٹلی کے لیے مؤثر قانونی نمائندگی فراہم کرنے کے اقدامات کریں۔ عدالت نے وزارت کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ ایک نوڈل افسر مقرر کرے جو درخواست گزار اور دیگر اہلِ خانہ کو میجر جیٹلی کی موجودہ صورتحال اور قانونی کارروائی کی پیش رفت سے آگاہ رکھے۔
(ندائے ڈیسک)










