بڈگام/۷ نومبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان اتحاد بدستور برقرار ہے۔
بڈگام میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ نے بجلی کے استعمال اور بلنگ پر گفتگو کی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ کھپت صرف وہاں شمار کی جانی چاہئے جہاں میٹر نصب ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ اگر کسی جگہ میٹر کی ضرورت نہیں ہے تو اسے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے، اور بل حقیقی استعمال کے مطابق بڑھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا’’ہم نے۲۰۰ مفت یونٹ دینے کا وعدہ کیا ہے، اور انشاء اللہ ہم اس وعدے کو پورا کریں گے۔ اس سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے، پی ڈی پی کی سیاسی چالوں میں نہ آئیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے پی ڈی پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے رہنماؤں نے سرکاری دفاتر میں میٹر نصب کیے مگر عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے تحت سب سے زیادہ مالی طور پر کمزور افراد کے لیے امداد دستیاب ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پی ڈی پی نے عوام کو گمراہ کیا، ماضی کی غلطیوں کو نظر انداز کیا، اور بعض معاملات میں افراد کو گرفتار بھی کیا، جبکہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم رکھا۔ اس کے برعکس نیشنل کانفرنس کی انتظامیہ نے عوامی فلاح کو ترجیح دی۔
این سی نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی پی نے عوام سے جھوٹے وعدے کیے ، مگر اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف اپنے وعدوں سے مکر گئی بلکہ لوگوں کے بنیادی مسائل کو بھی نظرانداز کر دیا۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ پی ڈی پی نے عوام کو گمراہ کیا، اپنی سابقہ غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، اور کئی بے گناہ افراد کو گرفتار کرایا۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے ووٹ سے طے ہوگا کہ اگلے چار سالوں میں جموں و کشمیر میں ترقی اور روزگار کی راہ ہموار ہوگی یا پھر جھوٹے وعدوں کی سیاست واپس آئے گی۔
این سی نائب صدر نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے ، تعلیمی اداروں کی مضبوطی، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیتی ہے ، جب کہ پی ڈی پی نے ہمیشہ اقتدار کے لیے عوامی مفاد کو قربان کیا ہے ۔
عمر عبداللہ نے کہا’’ہماری حکومت کا نصب العین واضح ہے ، عوامی خدمت، شفافیت، اور سماجی انصاف۔ ہم سیاسی دوغلے پن پر یقین نہیں رکھتے ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے جلسے کے اختتام پر عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں ایسے امیدواروں کو ووٹ دیں جو عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہوں، نہ کہ اُنہیں جو اقتدار کے لیے کسی سے بھی ہاتھ ملا لیں۔
رائے دہندگان پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ترقی، نوجوانوں کے روزگار کے مواقع، اور بجلی کے نرخوں پر توجہ دیں، عبداللہ نے کہا کہ ووٹروں کا فیصلہ آئندہ چار سالوں کے لیے حکمرانی کا تعین کرے گا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے اسکولوں میں ’وندے ماترم‘کی ۱۵۰ ویں سالگرہ منانے کی اجازت نہیں دی، اور کہا کہ اس طرح کے معاملات پر باہر سے کوئی ہدایت یا مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ فیصلہ کابینہ نے نہیں کیا، اور نہ ہی وزیر تعلیم نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ ہمیں اپنے اسکولوں میں ہونے والے فیصلے خود کرنے چاہئیں، باہر سے کوئی ہدایت نہیں ہونی چاہیے‘‘۔
۳۰؍ اکتوبر کو جموں و کشمیر کے محکمہ ثقافت نے ریاست بھر کے اسکولوں کو ’وندے ماترم‘کی ۱۵۰ ویں سالگرہ کی تقریبات میں حصہ لینے کی ہدایت دی تھی۔ اس حکم نامے پر متحدہ مجلس علما (ایم ایم یو) ‘ جو کہ جموں و کشمیر کی کئی مذہبی تنظیموں کا اتحاد ہے ‘نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’جبری حکم‘ قرار دیا اور فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ایم ایم یو کا کہنا تھا کہ گیت کے بعض حصے اسلامی عقیدہ ٔتوحید کے منافی ہیں۔
عمرعبداللہ جمعہ کے روز بڈگام اسمبلی حلقے میں انتخابی مہم چلا رہے تھے، کیونکہ اس نشست پر انتخابات ۱۱ نومبر کو ہونے والے ہیں۔
پارٹی کے لوک سبھا رکن پارلیمان روح اللہ مہدی ‘جو تین مرتبہ اثرورسوخ رکھنے والی شیعہ برادری کی نمائندگی کر چکے ہیں ‘کی غیر موجودگی کے سوال پرعمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کبھی کسی کو مہم چلانے پر مجبور نہیں کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’جو مہم چلانا چاہتا ہے وہ اپنی مرضی سے کرے، اور جو نہیں چاہتا وہ نہ کرے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں کسی کو زبردستی مہم چلانے پر مجبور نہیں کرتا۔ البتہ جب ہم کامیاب ہوں گے تو جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں تھے، وہ ہماری خوشی میں شریک نہیں ہوں گے‘‘۔
مہدی گزشتہ چند ماہ سے پارٹی سے دور ہیں اور حکومت کے طرزِ عمل پر کھلے عام تنقید کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ، جنہوں نے گاندربل سے بھی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بدگام کی نشست خالی کر دی تھی جس کے نتیجے میں ضمنی انتخاب ضروری ہو گیا، نے کہا کہ وہ کبھی دو نشستوں سے انتخاب لڑنا نہیں چاہتے تھے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ میں دو نشستوں سے انتخاب نہیں لڑوں گا، لیکن یہ حقیقت بیان کرنے کا مناسب وقت نہیں ہے۔ ایک دن آئے گا جب سب کچھ آپ سے شیئر کیا جائے گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ انہیں بڈگام اور جموں کے نگروٹہ حلقے میں کامیابی کا پورا یقین ہے جہاں ضمنی انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں نشستوں پر حالات ہمارے حق میں ہیں۔ اب چند آخری دن باقی ہیں، ہمیں مزید محنت کرنی ہے تاکہ ان ووٹروں تک پہنچ سکیں جن سے ابھی تک رابطہ نہیں ہوا، اور انہیں نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ دینے کیلئے آمادہ کریں۔
(ندائے مشرق خبر)
‘‘










