بہت سارے اشتہارات‘ جن میں پروڈکٹ کے حوالے سے بڑے اور بہت بڑے دعوے کئے جاتے ہیں ‘میں ایک چھوٹی سی سطر جوڑ دی جاتی ہے کہ… کہ’شرطیں لاگو ہیں‘…یعنی جو دعوے کئے جا رہے ہیں ‘یہ خالی نہیں ہیں… ان دعوؤں کو پورا ہونے کیلئے کچھ شرطیں ہو تی ہیں… لیکن عام لوگ اور عام صارف … اس ایک سطر کو نظر انداز کرتے ہیں… پروڈکٹ خریدنے کے وقت نظر انداز کرتے ہیں… جب پروڈکٹ ان کی امیدوں پر پورانہیں اتر تا ہے تو… تو شکایت یا مطالبہ کرنے پر انہیں یہ ایک چھوٹی سی سطر’شرطیں لاگو ہیں‘ یاد دلائی جاتی ہے… اور بے چارہ صارف خاموش ہو جاتا ہے‘ اسے وہ غلطی یاد آجاتی ہے…’شرطیں لاگو ہیں‘ کو نظر انداز کرنے والی غلطی … لیکن کہتے ہیں نا کہ … کہ اب کیا پچھتاوے جب چڑیا چُگ گئی کھیت… نیشنل کانفرنس نے الیکشن… اسمبلی الیکشن کے دوران بڑے نہیں بلکہ بہت بڑے وعدے کئے …لوگ ان وعدوں پر بھروسہ کر بیٹھے اور عمرعبداللہ کو مسند اقتدار پر بٹھایا … آج ایک سال بعد جب لوگ پوچھ رہے ہیںکہ ان کے ساتھ جو دعوے کئے گئے تھے… وہ کہاں ہیں… ان کا کیا ہوا …انہیں پورا کیوں نہیں کیا جا رہا ہے… ان کو پورا کرنے کی سمت میں سرکار… عمرسرکارسنجیدگی… کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتی ہے ؟ جب ان باتوں … عام لوگوں کے خدشات کو ارباب اقتدار کے بھاری سننے والے کانوں تک پہنچایا جاتا ہے… تو جواب میں کہاجاتا ہے… جواب میں کہا جا رہاہے کہ …کہ جناب استغفر اللہ‘توبہ توبہ… لوگوں کو کیا ہوا ہے جو انہیں بھروسہ نہیں ہے… عمرسرکار پر بھروسہ نہیں ہے… لوگوں کو عمر سرکار پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرنا چاہئے اوراس لئے کرنا چاہئے کیوں کہ عمر سرکار سنجیدہ ہے… ہر ایک اُس وعدے کو پورا کرنے میں ‘ اسے عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہے جس کا انہوں نے الیکشن کے دوران وعدہ کیا تھا… لیکن… لیکن ہاں ’شرطیں لاگوں ہیں‘… مفت ۲۰۰ یونٹ بجلی کیلئے پہلے سولر پینل لگانے ہوں گے… تب جا کے ۲۰۰ یونٹ بجلی مفت دی جائیگی…یعنی ’شرطیں لاگو ہیں ‘۔ایسی شرطیں جو الیکشن کے دوران لوگوں کو نہیں بتائی گئیں… دبے الفاظ میں بھی نہیں … لیکن آج ان کا بلند آواز میں اعلان کیا جارہا ہے… ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ… کہ غلطی عام لوگوں کی ہے… انہیں الیکشن کے دوران بھی ’شرطیں لاگوہیں‘ کی ممکنہ شرط کو دھیان میں رکھنا چاہئے تھا… لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ سولر پینل لگانے کیلئے چھت ہونی شرط اول ہے اور اگر لوگوں کے پاس چھت ہی نہ ہوئی تو…توبھی ’شرطیں لاگو ہیں‘ ۔ہے نا؟



