سرینگر/۱۷؍اکتوبر
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے طالبان حکومت پر ’انڈیا کیلئے کام کرنے‘ کا الزام لگانے کے بعد انڈیا کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ پاکستان اس بات پر ’برہم‘ ہے کہ طالبان حکومت اپنے علاقے پر خودمختاری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی صورتِ حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔‘
ترجمان نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’تین باتیں واضح ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ ہے اور دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ پاکستان کی پرانی عادت ہے کہ وہ اپنی اندرونی ناکامیوں کا الزام اپنے پڑوسیوں پر لگاتا ہے اور تیسری بات یہ کہ پاکستان اس بات سے پریشان ہے کہ افغانستان اپنے علاقے پر خودمختاری قائم کیے ہوئے ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔‘
جیسوال نے کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی‘ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں اور بدھ کے روز ۴۸گھنٹوں کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اْن کے خیال میں جنگ بندی زیادہ نہیں چلے گی کیونکہ اِس وقت طالبان کے ’سارے فیصلے دلی سے سپانسر ہو رہے ہیں۔‘
بدھ کی شب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اس وقت ایک انڈیا کی پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ ’جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور وہ اس وقت انڈیا کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔‘
دریں اثنا اس دوران افغانستان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی اور دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے اختتام تک جنگ بندی برقرار رہے گی۔
افغانستان میں طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی اردو کے روحان احمد کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام پاکستان کی درخواست پر کیا گیا۔
بی بی سی ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے مشترکہ طور پر جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ روئٹرز نے پاکستانی سکیورٹی حکام اور افغان طالبان کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان اور پاکستان نے دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کی ہے۔
اس سے قبل افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مقامی نیوز چینل آریانا نیوز کو بتایا کہ پاکستان سے بات چیت کے لیے افغان طالبان کا وفد دوحہ جائے گا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سنیچر کے روز ہوں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں نے ۴۸گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جو جمعے کو شام۶ بجے ختم ہونا تھی۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










