علی گڑھ 16/اکتوبر (یو این آئی) تعلیمی امور میں سر سید کے عمل اور افکار و نظریات نے علی گڑھ تحریک کی صورت اختیار کی، جس کی معنویت اور افادیت کا اعتراف ہر دور میں کیا گیا اور آج بھی اس کی معنویت وہی ہے ، جو پہلے تھی۔ علی گڑھ تحریک کے اغراض و مقاصد کو فروغ دینا وقت کا تقاضا ہے ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر راحت ابرار نے مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائے اردو اساتذہ (اردو اکادمی ) کے زیر اہتمام یوم سر سید کے موقع پر ایک خصوصی خطبہ بعنوان ‘علی گڑھ تحریک کی صداقت’ پیش کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ سر سید نے زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنے نقوش چھوڑے ۔ان کا شمار جدید ہندوستان کے معماروں میں ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ سر سید 1857 کے واقعات ،حادثات اور حالات کی پیداوار تھے ۔ان کی سیاسی بصیرت ہی تحریک کی فکری جہت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے ۔ڈاکٹر زبیر شاداب خان نے اپنے صدارتی کلمات میں سر سید کو وقت کا سب سے بڑا نباض اور مستقبل شناس قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سر سید نے مسلمانوں کے لیے جدید تعلیم کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ سائنس اور عصری علوم سے حد درجہ واقف ہو سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ علی گڑھ تحریک کا ایک اہم مقصدمسلمانوں کے اقتصادی ومعاشی حالات اور تہذیبی اقدار کو فروغ دینا تھا۔نیز مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے بھی اس تحریک نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ جلسے کی صدارت اردو اکادمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیرشاداب خان نے کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مشتاق صدف نے انجام دیے .اس تقریب کاآغاز ڈاکٹر عرفان احمد کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔
اس موقع پر مسٹر جانی فاسٹر نے علی گڑھ پر ایک خوبصورت نظم پیش کی اور پروفیسر خورشید احمد،پروفیسر ضیاالرحمان صدیقی،ڈاکٹر ابو صالح،ڈاکٹر عمر رضا،ڈاکٹر معید رشیدی،ڈاکٹر رفیع الدین،ڈاکٹر مامون رشید،ڈاکٹرابو بکر صدیقی وغیرہ کے علاوہ طلبا و طالبات نے بطور خاص شرکت کی۔








