نئی دہلی، 7 اکتوبر (یواین آئی) قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مدھیہ پردیش اور راجستھان کے محکمہ صحت کے پرنسپل سیکرٹریوں کو کف سیرپ پینے سے 12 بچوں کی موت کے بارے میں نوٹس جاری کیا ہے ۔
کمیشن نے یہ کارروائی ڈرگ کی حفاظت اور ریگولیٹری نگرانی میں سنگین کوتاہیوں کی شکایت کے بعد کی ہے ۔ کمیشن کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ این ایچ آر سی کے رکن پریانک کانونگو کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔ شکایت میں مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ اور ودیشا اضلاع اور راجستھان کے مختلف اضلاع میں ہونے والے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے ، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ آلودہ کف سیرپ پینے سے بچوں کی موت ہوئی ہے ۔
مرکزی وزارت صحت کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات میں کف سیرپ میں ڈائی تھیلین گلائکول یا ایتھیلین گلائکول کا کوئی نشان نہیں ملا، یہ کیمیکل گردے کو نقصان پہنچانے کے لیے جانا جاتا ہے ۔ بچوں کی موت کی وجہ ابھی تک غیر یقینی ہے ، لیکن کئی معاملات میں گردے سے متعلق پیچیدگیاں پائی گئیں۔
شکایت کنندہ نے اس واقعے کو بچوں کے زندگی، صحت اور محفوظ ادویات کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ انہوں نے دوائیوں کی پیداوار، تقسیم اور ریگولیٹری منظوری کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے ایکٹ 1993 کے سیکشن 12 کا استعمال کرتے ہوئے این ایچ آر سی نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور اترپردیش کے صحت کے محکموں کو تفصیلی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے انہیں سیرپ کے نمونے لینے ، تصدیق شدہ لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کرنے اور کسی بھی مشتبہ جعلی دوا کی فروخت کو روکنے کی بھی ہدایت دی۔










